خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 25
خطابات شوری جلد سوم ۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء جو اُس کے ایمان کو ضائع کرنے والی ہوں۔جب میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہیں اور اس زمانہ کے لوگ ہیں جن کو خدا تباہ نہیں کیا کرتا۔اور جبکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ باوجود اپنی ساری کمزوریوں اور نالائقیوں کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لائی ہوئی تعلیم کی اشاعت کی ذمہ واری میرے کمزور کندھوں پر ڈالی گئی ہے تو میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے کوئی بات ایسی نہیں کہلوائے گا جو خدا اور اُس کے رسول کے منشاء کے خلاف ہو۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تم سے بھی کبھی اس بات کا انکار نہیں کرائے گا جو خدا اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہو۔آخر میں بھی اُس کے قبضہ میں ہوں اور آپ لوگ بھی اُسی کے قبضہ میں ہیں۔پس آپ لوگ جو مشورہ دیں اُس میں اس امر کوملحوظ رکھیں کہ عقل کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑ دیں مگر دوسری طرف یہ امر بھی مد نظر رکھیں کہ مومن مجنون ہوتا ہے اور وہ دین کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔پس ہمیں عظیم الشان کاموں کو محض اس لئے نہیں چھوڑ دینا چاہئے کہ ہمارے پاس سرمایہ نہیں ہے۔اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنا مال خدا کے راستہ میں پیش کر دے اور اس راہ میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ سے کام نہ لے۔حضرت مسیح ناصری کے زمانہ میں ایسے کئی لوگ موجود تھے جنہوں نے اپنی تمام جائدادیں دین کے لئے دے دیں اور خدا کے لئے تلاش اور مفلس بن گئے۔ان لوگوں کو فقیر کہا جاتا تھا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنا تمام مال خدا کے لئے لگا دیا۔انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کے پاس ایک دفعہ ایک مال دار شخص آیا اور آکر کہنے لگا اے نیک استاد! میں تیری جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح ناصری نے اسے دیکھا اور کہا اونٹ کا سُوئی کے نا کہ میں سے نکل جانا آسان ہے مگر دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے، اگر تم سچے دل سے خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو جاؤ اور پہلے اپنی تمام دولت خدا کے لئے قربان کر دو یک تو سچی بات یہی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آتا ہے جب جماعت کے افراد سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔اور اگر مطالبہ نہ کیا جائے تو ہر فرد کو اس غرض کے لئے تیار ضرور کیا جاتا ہے کہ وہ اشارہ پاتے ہی