خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 23
خطابات شوری جلد سو ۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لئے خدا کی آواز پر اس طرح گرتے چلے جاتے ہیں جس طرح پروانہ شمع پر گرتا ہے۔لوگ جب اُن کے عقل کے کاموں کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی عقل مند نہیں مگر جب وہ اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہر قسم کے خوف سے نڈر ہو کر اور ہر قسم کے انجام سے بے نیاز ہو کر قربانیوں پر قربانیاں کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنی طاقت اور وسعت سے بھی بڑھ کر قربانیاں کر رہے ہیں تو وہ حیران ہو کر کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے بڑھ کر اور کوئی پاگل نہیں۔یہی مجموعہ قوم جو ایک ہی وقت میں عالم بھی ہوتا ہے اور پاگل بھی ہوتا ہے، عارف بھی ہوتا ہے اور مجنون بھی ہوتا ہے، ایک ایسا مجموعہ ہے جو ہمیشہ دنیا کو فتح کرتا آیا اور یہی وہ مجموعہ قوم ہے جس پر کہ آئندہ دنیا کی تمام ترقی اور فتوحات کا انحصار ہے۔اس وقت ہمارے سامنے جو تجاویز پیش ہیں وہ جماعت کے دوستوں کی طرف سے پرانے اصول پر ہی پیش کی گئی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اب ہمارے کام کئی قسم کے تغیرات کے مستحق ہیں اور میرے نزدیک اب وقت آ گیا ہے جب کہ جماعت کے بہترین دماغوں کو عض اس لئے فارغ رکھا جائے کہ وہ اعلیٰ مسائل کے متعلق غور وخوض کر سکیں اور جماعت کو اپنے مفید مشوروں سے آگاہ کریں۔میں نے ایک عرصہ تک جماعت کے جذبات اور اُس کے احساسات کا خیال رکھا اور باوجود دوستوں کی ناتجربہ کاری، ان کی سیاست سے نا واقفیت اور دینی جماعتوں کے اصول سے لاعلم ہونے کے ہمیشہ اُن کے مشوروں کو قبول کیا اور اگر اپنی کوتاہ نظری سے گر دو پیش کے حالات سے غلط طور پر متاثر ہو کر انہوں نے بعض مشورے دیئے تو میں نے اُن کو بھی رد نہیں کیا مگر اب وقت آ گیا ہے کہ میں ایسے مشوروں کو قبول نہ کروں اور دوستوں کے جذبات اور ان کے احساسات کا خیال رکھے بغیر اُن کو کُھلے طور پر رڈ کر دوں۔میں جانتا ہوں کہ در حقیقت بات یہی ہے کہ اب جو کچھ میں کہوں گا اُسی پر جماعت کا چلنا مفید اور بابرکت ہوگا نہ اُس راہ پر چلنا جس کو وہ خود اپنے لئے تجویز کرے۔اگر خدا نے مجھ پر یہ انکشاف کیا ہے کہ میں حسن واحسان میں حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کا نظیر ہوں تو درحقیقت اس کے یہی معنی ہیں کہ اب تمہاری ذمہ داری بحیثیت ایک شخص کے ہے، بحیثیت جماعت جو ذمہ داری سمجھی جاتی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔