خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 381

خطابات شوری جلد سوم ۳۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ممبر نہیں سمجھے جائیں گے اور نہ انہیں ووٹ دینے کا اختیار ہوگا، ووٹ صرف نمائندگان دے سکیں گے۔اگر یہ احتیاط کر لی جائے تو کوئی غیر آدمی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کر سکتا۔اس کے بعد میں ایک ذاتی امر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو اس لحاظ سے ذاتی ہے کہ اُس کا میری ذات پر اثر پڑتا ہے ورنہ ہے وہ سلسلہ کا ہی۔میں نے اپنے طور پر اس کام کو کرنے کی کوشش کی مگر اس میں مجھے روکیں نظر آئیں اس لئے اب میں وہ معاملہ جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اس وقت سب دوست بیٹھے ہیں وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جن کے خاندان سے وہ بات تعلق رکھتی ہے، وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جنہوں نے وہ کام کیا مگر معلوم نہیں کیوں وہ اب تک خاموش رہے ہیں اور کیوں اُنہوں نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی۔چونکہ زندگی کا اعتبار نہیں میں نہیں چاہتا کہ وہ بوجھ مجھ پر رہے، اس لئے میں اس بات کو آج پیش کر دیتا ہوں۔چار پانچ سال کی بات ہے ایک مجلس شوریٰ میں جو قادیان میں ہوئی علاوہ اور باتوں کے یہ بھی تحریک کی گئی کہ چونکہ قادیان کی زمینیں بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہیں اور ہمیں دفاتر ، کالج اور سکولوں وغیرہ کے لئے زمین کی ضرورت ہے اس لئے صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ وہ ابھی سے ان اغراض کے لئے زمین خرید لے۔مجھے یاد ہے جب یہ تحریک ہوئی تو مولوی ابو العطاء صاحب بار بار زور دیتے تھے کہ جامعہ احمدیہ کے لئے بھی زمین خریدی جائے۔آخر فیصلہ ہوا کہ اس غرض کے لئے صدر انجمن احمد یہ کو فوراً زمین خرید لینی چاہئے۔یہ آخری الیکشن کے قریب کے زمانہ کی بات ہے۔اس فیصلہ کے کچھ عرصہ بعد نواب محمد دین صاحب نے کہا کہ میری زمین قادیان کے پاس موجود ہے۔کالج ، مدرسہ احمدیہ، زنانہ سکول جامعہ اور صدر انجمن احمدیہ کے دوسرے اداروں کے لئے اگر صد را انجمن احمد یہ اُس زمین کو خریدنا چاہتی ہے تو بے شک خرید لے، میں وہ زمین دینے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ نواب صاحب سے وہ زمین ۸۵ ہزار روپیہ میں خرید لی گئی لیکن اس کا روپیہ تحریک جدید کے فنڈ سے میں نے سہولت کی نظر سے ادا کروا دیا۔یہ قیمت انجمن نے ہی طے کی تھی میں نے نہیں کی تھی۔اس کے بعد نواب محمد دین صاحب نے اس روپیہ میں سے ایک ہزار چندہ کے طور پر دیا اور کہا کہ چونکہ یہ زمین تعلیمی اغراض اور جماعتی مفاد کے لئے خریدی گئی ہے، اس لئے میں