خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 382

خطابات شوری جلد سوم ۳۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اس میں سے ایک ہزار روپیہ اپنی طرف سے بطور چندہ پیش کرتا ہوں مگر یہ روپیہ اب تک تحریک کو صدرانجمن احمدیہ نے ادا نہیں کیا اور مجھ پر اس کی طرف سے ذمہ داری آتی ہے میں برابر چار سال سے صدر انجمن احمدیہ کو کہ رہا ہوں کہ وہ اس امر کا فیصلہ کرے مگر بار بار کہنے کے باوجود رو پید ادا نہیں کیا گیا۔حالانکہ خود نواب محمد دین صاحب کے خاندان کے افراد بھی اِس حقیقت کو پوری طرح جانتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ زمین تحریک جدید کے لئے نہ تھی صدر انجمن احمدیہ کے لئے تھی۔ابھی مجھے نواب محمد دین صاحب کے لڑکے چوہدری محمد شریف صاحب نظر آئے ہیں۔شاید اس بارہ میں اُن کو بھی کچھ علم ہو۔“ اس موقع پر حضور نے فرمایا: - چوہدری محمد شریف صاحب بتائیے یہ زمین کس کے لئے تھی ؟ چوہدری محمد شریف صاحب۔حضور یہ زمین صدر انجمن کے لئے ہی تھی۔اس کے بعد حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے گواہی لی تو اُنہوں نے بھی فرمایا کہ یہ زمین صدر انجمن کے لئے ہی خریدی گئی تھی۔پھر حضور نے راجہ علی محمد صاحب سے گواہی لی جو اُس وقت ناظر بیت المال تھے تو اُنہوں نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ زمین صدر انجمن نے ہی خریدی تھی۔حضور نے فرمایا: - پھر کیا بات ہے کہ میرا پیچھا نہیں چھوڑا جاتا اور یہ روپیہ تحریک کو ادا کر کے مجھے ذمہ داری سے سبکدوش نہیں کیا جاتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو بھی اُٹھے گا اعتراض کرے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں نے اتنا روپیہ تحریک کا اُڑا لیا ہے حالانکہ یہ روپیہ تحریک جدید سے صدر انجمن احمدیہ کو قرض دلوایا گیا تھا۔اب بجٹ پر غور کرنے کے لئے جو سب کمیٹی بنائی جائے گی میں اُسے ہدایت کرتا ہوں کہ وہ نواب صاحب کے بیٹوں، راجہ علی محمد صاحب، میاں بشیر احمد صاحب اور اسی طرح اگر کوئی اور دوست ہوں تو اُن کے حلفیہ بیانات لے کر اس امر کا فیصلہ کرے۔میرے متواتر کہنے کے باوجود ناظر اس بارہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے ، وہ کھسک کر چلے جاتے ہیں اور مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض دوست یہ باتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں کیا پتہ ہے کہ یہ زمین کس نے خریدی تھی اور چونکہ یہ معاملہ