خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 380
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ایک سو کرسی خریدی تھی جو اس وقت مختلف دفاتر میں ہے۔اگر مجلس شوری کی ضرورت کو اپنے سامنے رکھا جائے اور کچھ سامان اس سال لے لیا جائے اور کچھ اگلے سال تو دو سال کے اندر اندر بہت قلیل رقم میں تمام سامان جمع ہو سکتا ہے۔اس طرح مجلس شوری کی کارروائی سننے کے لئے بیرونجات سے جو دوست آتے ہیں اُن کے بٹھانے کے لئے بھی مناسب انتظام ہونا چاہئے۔اگر لکڑی کے کھمبے ہی اس طرح لگا دیئے جاتے کہ زائرین ایک ترتیب سے الگ بیٹھ سکتے تو یہ بہت زیادہ بہتر ہوتا۔اس طرح ناپسندیدہ لوگوں کو بھی اندر آنے کا موقع نہیں مل سکتا اور شامل ہونے والوں کو بھی سہولت میسر آ سکتی ہے۔کارکنوں کیلئے بیج کی ہدایت دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اٹھائیس سال سے ہماری مجلس شوریٰ ہو رہی ہے اور بار بار ہمیں اس کا تجربہ ہوتا ہے مگر ہمارے کارکنوں نے گزشتہ تجربات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ترقی کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔اس وقت شوری کے ممبر بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور کارکن بھی بیٹھے ہوئے ہیں مگر یہ امتیاز کرنا مشکل ہے کہ کارکن کون سے ہیں اور ممبر کون سے ہیں۔اگر ہر دفعہ مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی اصلاح کی کوشش کی جاتی تو اس قسم کی باتوں کا حل دیر سے دریافت ہو چکا ہوتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ممبران کے لئے تو بیج لگا کر آنا مناسب نہیں لیکن کارکنوں کے لئے اگر کوئی بیج مقرر کر دیا جائے جو دورانِ مشاورت میں وہ لگائے رکھیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔اگر مجلس مشاورت کا کوئی بیج ہو جو تمام کارکنوں نے لگایا ہوا ہو تو ہر شخص کو نظر آ سکتا ہے کہ یہ لوگ کا رکن ہیں، شوری کے ممبر نہیں۔جس طرح خدام الاحمدیہ والوں نے اپنے لئے ایک بیج بنایا ہوا ہے۔اسی طرح شوری جو جماعت کا سب سے اہم محکمہ ہے اُس کے کارکنوں کے لئے بھی بیج ہونا چاہئے۔اگر کارکنوں کو بیج لگ جائے تو وہ جہاں ہوں گے سب لوگوں کو نظر آ رہا ہوگا کہ یہ صرف کا رکن ہیں، ووٹ دینے کا حق نہیں رکھتے۔ابھی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ زمانہ نہیں کہ لوگ دھوکا سے ووٹ دینے کے لئے کھڑے ہو جائیں لیکن ہو سکتا ہے کہ کبھی کسی کمزور انسان کے دل میں ایسا خیال پیدا ہو جائے اور وہ اس قسم کی حرکت کر بیٹھے اس لئے ضروری ہے کہ کارکنوں کے لئے بیج بنایا جائے جو اُنہوں نے ایامِ مشاورت میں لگایا ہوا ہو۔جن کے بیج لگے ہوئے ہوں گے وہ