خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 379
خطابات شوری جلد سوم ۳۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے شمولیت کا موقع دے دیا اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ میں اب بول سکتا ہوں اور اپنی آواز دوستوں تک پہنچا سکتا ہوں لیکن بہر حال زیادہ بولنا خطرہ سے خالی نہیں اس لئے ضروری ہوگا کہ میں کم بولوں اور زیادہ زور اپنے گلے پر نہ ڈالوں تا ایسا نہ ہو کہ مرض عود کر آئے اور علاج اور بھی مشکل ہو جائے۔نمائندگان اور زائرین کے بیٹھنے ایک ہدایت میں کارکنوں کو یہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ مجلس شوری کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیلئے کرسیوں کا انتظام کیا جائے آئندہ اس کے لئے سامان جمع کریں۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ رہے گی اور مجلس شوری بھی ہمیشہ ہوتی رہے گی بلکہ یہ زیادہ سے زیادہ منظم ہوتی چلی جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ نمائندگان اور زائرین کے بیٹھنے کے لئے مناسب انتظام کیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا پرانا طریق یہی تھا کہ سب لوگ زمین پر بیٹھ کر کام کیا کرتے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ زمین سے اُٹھ کر بات کرنا مشکل ہوتا ہے اور بولنے والے پر یہ۔اثر پڑتا ہے کہ میں اپنی بات دوسروں سے منوا نہیں رہا اور بولنے والے کے دل میں یہ یقین پیدا کرنے کے لئے کہ اُس کی بات سُنی جا رہی ہے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایسی طرز پر خطاب کرے کہ لوگ اُس کو نظر آتے ہوں اور وہ اُن کو نظر آتا ہو اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب سب لوگ گرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوں، زمین پر بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے بار بار کھڑے ہونا اور جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔پس آئندہ کے لئے اس امر کو مدنظر رکھا جائے اور مجلس شوری کے لئے سستی قسم کی گرسیاں لے لی جائیں۔اوّل تو یہ کوئی بڑا خرچ نہیں۔فسادات سے قبل قادیان میں ہمارے ساڑھے چار سو تک نمائندے ہوا کرتے تھے۔آج مجھے بتایا گیا ہے کہ نمائندگان کی تعداد ۳۱۷ ہے۔اگر ساڑھے تین سو نمائندے بھی سمجھ لئے جائیں تو تین ہزار روپیہ میں سارا سامان خریدا جا سکتا ہے۔لوگ آرام سے بھی بیٹھ سکتے ہیں اور بولتے وقت بھی انہیں سہولت میسر آ سکتی ہے۔کرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہونے میں بہت آسانی ہوتی ہے لیکن زمین سے کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے۔یہاں سکول بن جائے تو کچھ گرسیاں سکول سے بھی لی جاسکتی ہیں اور کچھ گھروں سے لی جاسکتی ہیں ہم نے یہاں آتے وقت