خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 22

مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ۲۲ خطابات شوری جلد سوم اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ اسی کام کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا ہے، اسی کام کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے ، اسی کام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور اسی کام کے لئے میرے کمزور کندھوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بوجھ رکھا گیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آسمان یا زمین سے خدا تعالیٰ اُن لوگوں کو کھڑا کر دے گا جو میری آواز پر لبیک کہنے والے ہوں گے اور جو اپنی جان اور اپنی عزت اور اپنی دولت اور اپنا وطن اور اپنی ہر چیز اس راستہ میں خوشی سے قربان کر دیں گے کیونکہ وہ مجھ کمزور اور ناتواں انسان کی آواز نہیں سنیں گے بلکہ اس آواز کے پیچھے انہیں خدا کی آواز بلند ہوتی نظر آئے گی ۔ پس مجھے یہ فکر نہیں کہ یہ کام کس طرح ہوگا ۔ جب خدا نے ایک کام میرے سپرد کیا ہے تو یقیناً وہ کام ہو کر رہے گا، خواہ وہ میری زندگی میں ہو اور خواہ میری موت کے بعد ہو، خواہ تمہارے ذریعہ سے ہو خواہ تمہاری نسلوں کے ذریعے سے ہو، بہر حال یہ ناممکن اور بالکل نا ممکن ہے کہ جو کام خدا نے میرے سپرد کیا ہے وہ نہ ہو۔ زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر توحید کا قیام، خدائے واحد کے کلمہ کا اعلاء اور اُس کے دین کا دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلنا کبھی رُک نہیں سکتا ۔ یورپ کا فلسفہ، یورپ کی سیاست اور یورپ کا تمدن اب اس کے رستہ میں حائل نہیں رہ سکتا۔ خدا کے فرشتے اس کی دیواروں پر اپنی تو ہیں داغنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور قریب ہے کہ خدا کا حکم جاری ہو جائے ۔ پھر وہ عمارتیں اسلام اور احمدیت کے مقابلہ میں اس طرح منہدم ہو جائیں گی جس طرح ایک چھوٹی سے چھوٹی اور کمزور سے کمزور دیواروں والی عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔ پس ان حالات کے ماتحت ان کمیٹیوں میں جو ابھی بنائی جائیں گی آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ مومن کے اندر اگر ایک طرف عقل پائی جاتی ہے تو دوسری طرف اس میں جنون پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کی قوم کو دنیا نے بہترین عقلمند نہیں کہا اور کوئی نئی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس کی قوم کو دنیا نے مجنون نہیں کہا ۔ انبیاء کے ماننے والوں کی خوبی ہی اس میں ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں پاگل بھی ہوتے ہیں اور عقلمند بھی ہوتے ہیں۔ وہ عقلمند ہوتے ہیں کیونکہ وہ کوئی بات ایسی نہیں کرتے جو عقل کے خلاف ہو لیکن دوسری طرف جب بات قربانی کا سوال ہو تو وہ کوئی شرط پیش نہیں کرتے کسی فکر اور تردد کا اظہار نہیں کرتے بلکہ وہ XXX XXXXXXXXX