خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 21
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء پھر فرمایا کہ کوئی ہے؟ تب پھر وہی صحابی کہتے ہیں کہ میں اُس وقت بھی جاگ رہا تھا مگر مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بول سکتا ، سردی کی شدت نے میری قوت گویائی کو سلب کر دیا اور با وجود انتہائی خواہش رکھنے کے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب دوں حسرت اور افسوس کے ساتھ خاموش رہا کیونکہ میری زبان نے میرے دل کے جذبات کا ساتھ نہ دیا۔اس پر پھر وہی صحابی جنہوں نے پہلے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں بول پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نہیں کوئی اور بولے مگر کسی اور صحابی کو اُس وقت بولنے کی ہمت نہ پڑی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر خاموش ہو گئے اور تھوڑی دیر کے بعد آپ نے سہ بارہ فرمایا کہ کوئی ہے؟ اس پر بھی دوسرے صحابہ بول نہ سکے مگر وہ صحابی جنہوں نے دو دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب دیا تھا اس دفعہ بھی بول اُٹھے کہ یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور آپ نے فرما یا باہر جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے؟ وہ گئے اور واپس آکر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! میدان بالکل خالی پڑا ہے اور دشمن کا کوئی خیمہ وہاں نظر نہیں آتا۔آپ نے فرمایا میں نے اسی لئے تم کو باہر بھجوایا تھا کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ دشمن کو بھگا دیا گیا ہے۔لے تو دیکھو یہ عشق کی کیفیت ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ شدید سردی تھی ، باوجود اس کے کہ سردی کی وجہ سے زبان تک یخ ہو رہی تھی ، باوجود اس کے کہ تن پر کپڑے بھی کافی نہیں تھے پھر بھی وہ صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر "یارسول اللہ! میں حاضر ہوں“ کہنے کی توفیق پا رہا تھا۔یہی روح ہے جو مردوں کو زندہ کرتی ہے، یہی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت زمین پر قائم کرتی ہے، یہی روح ہے جو انبیاء کی جماعتوں کو احیاء بخشتی ہے، یہی روح ہے جو قوموں کو ابدی زندگی عطا کرتی ہے۔جب تک یہ روح زندہ رہے دنیا مر نہیں سکتی اور جس دن یہ روح مرگئی اس دن کے بعد دنیا زندہ نہیں رہ سکتی۔مومن کے دل میں ایک جوش ہوتا ہے، ایک جنون ہوتا ہے، ایک تڑپ ہوتی ہے کہ میں ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کے آستانہ کی طرف کھینچ لاؤں اور اس جوش اور جنون کی حالت میں جب بھی خدا کی آواز اس کے کان میں آتی ہے کہ کوئی ہے جو میری آواز کو سنے؟ تو وہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّیک کہتے ہوئے