خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 347
خطابات شوری جلد سوم ۳۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء کے بعد ہونا تھا وہ ابھی درخت لگا ہی رہا تھا کہ بادشاہ قریب سے گزرا اور اُس نے بڑھے کو وہ درخت لگاتے دیکھ کر کہا ،میاں بڑھے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری عقل ماری گئی ہے ، تم ۸۰۰۷۰ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہو اور درخت وہ لگا رہے ہو جو پھل اُس وقت دے گا جب تم مرچکے ہو گے۔بوڑھے نے کہا آپ نے یہ کیا بات کہی ہے اگر ہمارے باپ دادا بھی یہی سوچتے تو آپ اور ہم کہاں سے پھل کھاتے ، انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے پھل کھائے۔اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری آئندہ نسلیں پھل کھا ئیں گی۔بادشاہ نے یہ بات سنی تو بے اختیار اس کی زبان سے نکلا زہ ، یعنی کیا ہی اچھی بات کہی ہے۔اور بادشاہ کا حکم تھا کہ جب میں کسی کی بات پر زہ“ کہوں تو اُسے فوراً تین ہزار دینار انعام کے طور پر دے دیا جایا کرے۔جب بادشاہ نے زہ" کہا تو وزیر نے فوراً ایک تھیلی تین ہزار دینار کی بڑھے کے سامنے رکھ دی۔بڑھا اُس تھیلی کو دیکھ کر کہنے لگا بادشاہ سلامت آپ تو کہتے تھے کہ تو اس درخت کا پھل کس طرح کھائے گا ، دیکھئے لوگ درخت لگاتے ہیں تو کئی کئی سال کے بعد اُس کا پھل کھاتے ہیں مگر میں نے تو درخت لگاتے لگاتے اُس کا پھل کھا لیا، بادشاہ نے کہا’زہ اس پر وزیر نے جھٹ دوسری تھیلی بڑھے کے سامنے رکھ دی، بڑھا ہوشیار آدمی تھا اُس نے دوسری تحصیلی دیکھی تو پھر بادشاہ کی طرف متوجہ ہوا اور اُس نے کہا، بادشاہ سلامت آپ تو کہتے تھے کہ تو اس درخت کا پھل کس طرح کھائے گا ، دیکھئے اور لوگ تو جب درخت بڑا ہو اور پھل دینے لگے تو سال میں صرف ایک دفعہ اس کا پھل کھاتے ہیں مگر میں نے تو ایک گھنٹہ میں اس کا دو دفعہ پھل کھا لیا۔بادشاہ نے کہا ”زہ اور وزیر نے جھٹ تیسری تحصیلی بھی بڑھے کے سامنے رکھ دی اُس پر بادشاہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا جلدی یہاں سے چلو ورنہ بڑھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن اس میں ایک بہت بڑی حقیقت مخفی ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر قربانی کا پھل قربانی کرنے والا ہی کھائے دیکھو ابراہیم نے کتنی بڑی قربانی کی مگر کیا اُس کا پھل ابراہیم نے کھایا ، کیا اُس کا پھل اسماعیل نے کھایا ، کیا اُس کا پھل اسماعیل کے بیٹے نے کھایا ، کیا اُس کے بیٹے کے بیٹے نے اُس کا پھل کھایا۔تاریخ بتاتی ہے کہ سالوں کے بعد سال گزرتے چلے گئے نسلوں کے بعد نسلیں پیدا ہوئیں اور فنا ہوئیں مگر اُنہوں نے ابراہیم کی