خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 346

خطابات شوری جلد سوم وہ ۳۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء اپنے چندوں میں سے روپیہ دینا پڑے گا مگر جو شخص سلسلے کا وہ روپیہ بھی نہیں دے سکتا جو وہ غیروں کو دے رہا ہے اور جو بڑی آسانی سے وہ سلسلے کو دے سکتا ہے ، اُس سے یہ کیونکر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کالج کے لئے زائد اخراجات اپنے اوپر ڈالنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔پس میرے نزدیک یہ بہت بڑا جرم کیا گیا ہے اور جنہوں نے لڑکوں کی تعلیم ختم کرائی ہے اُنہوں نے تو اور بھی جرم کیا ہے ہم تو چاہتے ہیں کہ ہمارا ہر فرد مولوی فاضل ہو، وکیل ہو، ڈاکٹر ہو ، انجینئر ہو اور کسی نہ کسی اہم مقام پر فائز ہو۔مشرقی پنجاب کے فسادات کی وجہ سے اگر کچھ عرصہ تعلیم چھوٹی بھی تھی تو اگر ہماری جماعت کی آنکھیں کھلی ہوتیں تو اُس کا فرض تھا کہ وہ تعلیمی لحاظ سے اور بھی اونچی ہو جاتی۔اور ان مظالم کے ازالے کا طریق یہی تھا کہ ہ پہلے سے زیادہ بہتر مسلمان دنیا میں پیدا کرتی۔آخر یہ کیا طریق ہے کہ چونکہ ہماری جائدادیں تباہ ہوگئی ہیں اس لئے ہم اپنے لڑکوں کو نہیں پڑھائیں گے۔اگر تم اپنے لڑکوں کو نہیں پڑھاؤ گے تو تمہارے اندر جہالت زیادہ ہوگی اور تم پہلے سے بھی ادنیٰ حالت میں گر جاؤ گے تم کو چاہیے تھا کہ جولڑ کا تعلیم کے قابل تھا اُسے مجبور کرتے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اُس سے قطع تعلق کر لیتے۔پس جن لوگوں نے تعلیم میں حصہ نہیں لیا اور اس بارہ میں اُنہوں نے غفلت کی ہے، میں اُن پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں اور میں اُمید کرتا ہوں کہ اب جو نیا سال آرہا ہے اُس میں وہ زیادہ سے زیادہ اپنے لڑکوں کو تعلیم کے لئے بھجوائیں گے۔سکول کا بھی یہی حال ہے ، ۱۲۰۰ لڑکا تھا مگر اب وہاں ۲۷۵ کے قریب لڑکے ہیں گویا ۰۷۵الڑکا احمدیہ تربیت سے محروم ہو چکا ہے اور ۱۰۷۵ کی فیس اس وقت غیروں کے پاس جارہی ہے اگر ہمارے پاس آتی تو کمی پوری ہو جاتی۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کر کے آئندہ نسل کی تعلیم کے سلسلہ کو جاری رکھیں بلکہ میرے نزدیک اگر ایک نسل اپنے لڑکوں کی تعلیم کی خاطر فاقے کر کر کے مر بھی جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ اپنے لڑکوں کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا جائے یہ تو سوال ہی نہیں کہ ہمارا کیا حال ہو گا۔قربانیوں کا پھل کبھی رائیگاں نہیں جاتا مثل مشہور ہے کہ ایک بڑھا ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جس کا پھل دس سال