خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 344
خطابات شوری جلد سوم ۳۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ہی دیکھا ہے چائے پلاتے نہیں دیکھا لوگ کہتے ہیں کہ یہ پیالی پی لو اور اخبار میں ہمارا بھی ذکر کر دو، یہ کبھی نہیں ہوا کہ رپورٹر خود چائے پلایا کرے میں نے دوسرے ممالک بھی دیکھے ہیں میں شام بھی گیا ہوں، فلسطین بھی گیا ہوں ، مصر بھی گیا ہوں ، روم بھی گیا ہوں، انگلستان بھی گیا ہوں ان سارے ممالک میں میں نے رپورٹروں کو ہمیشہ چائے پیتے دیکھا ہے، چائے پلاتے نہیں دیکھا۔ہمارے ملک میں بھی یہی ہوتا ہے کہ لوگ رپورٹروں کو چائے پر بلاتے ہیں مگر الفضل کا رپورٹر کہتا ہے کہ مجھے۔۵۰۱ روپیہ ماہوار دو تا کہ میں لوگوں کو چائے پلایا کروں یہ نہایت ہی غلط طریق ہے اور اس سے اچھی ذہنیت کا مظاہرہ نہیں ہوتا میں نے دیہاتی مبلغین کو بھی دیکھا ہے کہ ان میں سے بھی بعض آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں -۳۰۰ روپیہ دلوایا جائے تا کہ ہم کرایہ دے دے کر معززین کو یہاں لاسکیں حالانکہ وہ معزز ہے کس بات کا جو تم سے کرایہ مانگنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے وہ خاک معزز ہے اُسے اگر آنے کا شوق ہے تو آپ آئے اور خود کرایہ خرچ کرے۔جو شخص کرایہ کی خاطر ساتھ چل پڑتا ہے وہ تو نہایت ہی ذلیل انسان ہے پس اپنی ذہنیت کی اصلاح کرنی چاہیے اور شو (show) اور نمائش کی عادت کم کر کے صرف کام کرنا اپنے مد نظر رکھنا چاہیے۔اُس کیلئے جن چیزوں کی اشد ضرورت ہو وہ دی جاسکتی ہیں مثلاً اُس نے سائیکل مانگا جس پر میں نے انجمن کو لکھا کہ اسے سائیکل ضرور لے دو مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ وہ اخبار کا ر پورٹر ہے سمجھدار اور لکھا پڑھا آدمی ہے مگر کہتا ہے کہ مجھے چائے پلانے کے لئے-/۵۰ روپے ماہوار دیئے جائیں میں اُسے کہتا ہوں تیرا کام ہے کہ تو چائے پی تیرا یہ کا م نہیں کہ تو لوگوں کو چائے پلائے ، بہر حال الفضل کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی جائے گی اور وہ رپورٹ کرے گی کہ الفضل کا کام تجارتی اصولوں پر کس طرح چلایا جائے یا تو اُسے خالص مذہبی پر چہ بنا دیا جائے اور خبریں اُڑا دی جائیں اس طرح پندرہ سولہ ہزار روپیہ بچ جائے گا کاغذ میں بھی پندرہ ہیں ہزار روپیہ بیچ سکتا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر سختی سے نگرانی کی جائے تو کئی اور اخراجات بھی کم کئے جاسکتے ہیں۔سیکر ٹریان زکوۃ مقرر کرنے کی تحریک میاں عطاء اللہ صاحب نے کہا ہے کہ سیکرٹری زکوۃ ہر جماعت میں مقرر ہونے چاہیں۔یہ کہنا کہ سیکرٹری زکواۃ کے تقریر کی وجہ سے خرچ بڑھ جائے گا غلطی ہے اس سے خرچ