خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 343

خطابات شوری جلد سوم ۳۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ضرور نفع دیتا ہے۔ہمارے اخبار کے خریدار تین ہزار کے قریب قریب ہیں نفع نہ سہی تو دو تین ہزار روپیہ کا ہی گھاٹا ہو مگر ۶۳۰۰۰ روپیہ کا گھاٹا تو اتنی بڑی چیز ہے کہ دس ہزار خریدار کے بعد بھی پورا نہیں ہوسکتا جو فرق پڑے گا وہ صرف عملہ میں اور کتابت میں ہوگا باقی اخراجات اُسی نسبت سے بڑھتے چلے جائیں گے۔اگر دس ہزار خریدار ہوں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تین لاکھ اسی ہزار روپیہ خرچ ہے اور اُنہوں نے اپنی موجودہ آمد ۶۰ ہزار روپیہ کھی ہے، ساٹھ کو سوا تین سے ضرب دیں تو سوا دو لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔دنیا کا قاعدہ ہے کہ کارخانہ جتنا زیادہ بڑھتا چلا جاتا ہے نقصان کم ہوتا چلا جاتا ہے مگر الفضل کا یہ حال ہے کہ اس کی جتنی بکری بڑھتی جائے اتنا ہی نقصان زیادہ ہوتا جاتا ہے ، دوسرے اخبار اتنی خریداری پر پندرہ ہزار ماہوار کماتے ہیں اور ہم ایک لاکھ ۵۵۰ ہزار کا گھاٹا اُٹھاتے ہیں، اس اندازہ سے پچاس ہزار تک خریداری بڑھ جائے تب کہیں نفع کی امید ہو سکتی ہے حالانکہ ولایت میں پچاس ہزار خریداری پر ۷۰، ۸۰ ہزار روپیہ ماہوار آمدنی اخبار والوں کو ہوتی ہے۔دراصل ایڈیٹر اور منیجر دونوں کا عملہ یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم کو مفت میں تنخواہ مل جاتی ہے ہمیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے میرے نزدیک کاغذ مہنگا خریدا جاتا ہے۔میرے نزدیک چھپوائی میں ضرور کمی کی جاسکتی ہے میرے نزدیک سارا پرچہ فروخت نہیں ہوتا اور میرے نزدیک لکھوائی میں بھی ضرور فرق ہے میں اس کے متعلق ایک کمیٹی مقرر کروں گا جو ان تمام حالات پر غور کرے گی اور اس بات پر بھی غور کرے گی کہ موجودہ صورت میں خبریں رکھی جائیں یا نہ رکھی جائیں۔موجودہ عملہ رکھا جائے یا نہ رکھا جائے۔الفضل میں میرا خطبہ اور ڈائریاں اور ضروری مضامین بس اس قدر کافی ہیں اس کے لئے زیادہ ایڈیٹروں کی ضرورت نہیں صرف ایک ایڈیٹر کافی ہے ایک ڈائری نویس رکھ لیا جائے اور وہ دونوں مل کر کا پیاں اور پروف وغیرہ پڑھ لیا کریں اسی طرح مینجر اشتہارات کی بھی کوئی ضرورت نہیں جتنے اشتہارات ہوتے ہیں اُس سے زیادہ مینجر کے عملہ کا خرچ ہے۔میں حیران ہوں کہ الفضل کے لئے جو رپورٹر مقرر کیا گیا ہے اُس نے میرے پاس شکایت کی ہے کہ میں انجمن سے پچاس روپیہ ماہوار چائے پلانے کے لئے مانگتا ہوں مگر انجمن -/ ۵۰ روپے چائے پلانے کے لئے مجھ کو نہیں دیتی یہ -/۵۰ روپیہ کی ماہوار چائے پلانے والا ر پورٹر ہم نے آج ہی دیکھا ہے میں نے تو دنیا میں ہر جگہ رپورٹرز کو چائے پیتے