خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 345
خطابات شوری جلد سوم ۳۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء بڑھے گا نہیں بلکہ زکوۃ کی وصولی سے جو آمدن ہوگی وہ سلسلہ کے لئے بہت مفید ہوگی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سکیم بڑی اچھی ہے اور میں حیران ہوں کہ سب کمیٹی نے اس کو کیوں رڈ کر دیا۔زکوۃ کی وصولی کے لئے ہر جماعت میں سیکرٹری زکوۃ مقرر کرنے چاہئیں بلکہ زکوۃ کی ادائیگی چونکہ عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے اور زکوۃ کے معاملہ میں عورتیں بالعموم کوتا ہی سے کام لیا کرتی ہیں اس لئے میرے نزدیک لجنہ اماء اللہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر جگہ ایک عورت کو سیکرٹری زکوۃ مقرر کرے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ ہر جگہ پڑھے لکھے آدمی نہیں مل سکتے اس لئے سیکرٹری زکوۃ مقرر کرنے میں دقت ہوگی اس کا جواب یہ ہے کہ کیا پہلی جماعتوں میں ایک ایک آدمی کے سپر د تین تین عہدے نہیں ہوا کرتے آخر تین عہدے ایک آدمی کے سپر د کیوں کئے جاتے ہیں اسی لئے کہ اُن عہدوں کے لئے الگ الگ موزوں آدمی نہیں ملتا۔اگر ایک شخص کو تین عہدے دیئے جاسکتے ہیں تو اُس کو چار عہدے بھی دیئے جا سکتے ہیں تم اُس کا نام سیکرٹری تعلیم و تربیت بھی رکھ لو، اُس کو سیکرٹری مال بھی کہہ لو، اُس کو سیکرٹری امور عامہ بھی کہہ لو اور اُس کا نام سیکرٹری زکوۃ بھی رکھ دو اس میں کون سی وقت ہے میرے نزدیک ایسا ضرور ہونا چاہیے جہاں الگ الگ سیکرٹری زکوۃ مقرر کئے جاسکیں وہاں الگ الگ سیکرٹری زکوۃ مقرر کئے جائیں اور جہاں موزوں آدمیوں کی قلت کی وجہ سے الگ الگ سیکرٹری زکوۃ مقرر نہ کئے جاسکیں وہاں یہی کام کسی اور عہد یدار کے سپر د کر دیا جائے اور اُسے بھی سیکرٹری زکوۃ کا نام دے دیا جائے۔بچوں کی تعلیم کے سلسلہ کو جاری رکھنے کی تحریک کالج کے لڑکوں کے متعلق پرنسپل صاحب نے شکایت کی ہے کہ اڑھائی سو سے سولر کا رہ گیا ہے۔میں نہایت ہی افسوس کے ساتھ جماعت کو اس بارہ میں ملامت کرتا ہوں ، مصائب تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن مصیبت کے وقت آئندہ نسل کو قربان کر دینے کے کیا معنی ہیں پھر ڈیڑھ سو میں سے بہت سے لڑکے ایسے ہیں جو اپنی اپنی جگہ کالجوں میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ماں باپ کو جس ہی نہیں کہ وہ اپنا روپیہ غیروں کو دے رہے ہیں اور سلسلہ پر بار بڑھ رہا ہے ، جب کالج میں لڑکے کم ہوں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ آمدن پوری نہیں ہوگی اور جب آمدن پوری نہیں ہوگی تو ہمیں