خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 339

خطابات شوری جلد سو ۳۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء مکہ کی طرف چل پڑے۔جب مکہ کے قریب پہنچے تو کفار نے انہیں روک لیا ، اُنہوں نے بہتیرا سمجھایا کہ ہم خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں ہم میانوں سے تلواریں نہیں نکالیں گے بلکہ متواضع شہریوں کی طرح عمرہ کر کے چلے جائیں گے مگر اُنہوں نے کہا، خواہ کچھ ہو ہم تو اس کی اجازت نہیں دے سکتے آخر دنیا کو کیا پتہ ہے کہ تم عبادت کے لئے آئے تھے ، لوگ تو کہیں گے کہ عرب ڈر گئے اور اُنہوں نے مسلمانوں کو مکہ میں آنے کی اجازت دے دی ، اگلے سال بے شک عمرہ کر لینا ، ہم سال بھر ڈھنڈورا پیٹتے رہیں گے کہ ہم نے خود مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دی ہے اس طرح ہمارا رعب قائم رہے گا ، اس وقت ہم عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے۔اس پر بڑا شور ہوا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی بات مان لی اور آپ نے صحابہ کوحکم دیا کہ قربانیاں یہیں کر لو۔اس بارہ میں اختلاف ہے، فقہاء میں سے بعض کہتے ہیں کہ جس مقام پر انہوں نے ڈیرے ڈالے تھے وہ حرم میں شامل تھا اور چونکہ وہ مقام حرم میں شامل تھے اس لئے اُن کے لئے قربانیاں کرنا جائز تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ مقام تو حرم میں شامل نہیں تھا مگر شریعت کا مسئلہ یہ ہے کہ جب انسان حج یا عمرہ کے لئے جائے اور رستہ میں روکا جائے تو جس جگہ روکا جائے و ہیں قربانی کر دے بہر حال کوئی وجہ ہو ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانیاں کردو، صحابہ نے یہ بات سنی مگر وہ قربانیاں کرنے کے لئے نہ اُٹھے ، آپ نے ایک دفعہ کہا، دو دفعہ کہا ، تین دفعہ کہا ، مگر وہ خاموش رہے اُن کو دکھ تھا کہ آج اُن کی ناکیں کٹ گئیں، دو دوسو تین تین سو میل تک رہنے والے قبائل انہیں طعنہ دیں گے کہ تم نے کر لیا عمرہ ! انہیں غم تھا کہ ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے اور اُن کے سامنے اپنی عزت کس طرح قائم رکھ سکیں گے وہ اتنے دکھ میں تھے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا جاؤ اور قربانیاں کرو، جاؤ اور قربانیاں کرو ، وہ قربانیاں کرنے کے لئے نہ اُٹھے۔آپ کو اس سے شدید ترین صدمہ پہنچا کہ اتنی بڑی قربانی کرنے والی قوم جو میرے ایک اشارہ پر اپنی جانیں قربان کر دیا کرتی تھی آج اپنے حواس اس طرح کھو بیٹھی ہے کہ میں ایک حکم دیتا ہوں اور وہ اُس کی تعمیل نہیں کرتی ، آپ اُسی حالت میں حضرت حفصہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ حفصہ آج تمہاری قوم پر بڑی آفت آئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب عربوں