خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 340

خطابات شوری جلد سو ۳۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء میں نشوز کی کوئی بات دیکھتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ میری قوم نے ایسا کیا بلکہ مخاطب سے ذکر کرتے ہوئے کہتے کہ آج تیری قوم نے ایسا کیا ، یہی انداز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت اختیار کیا۔حضرت حفصہ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہوا ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آج اس اس طرح ہوا ہے ، اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ ! جانے بھی دیجئے ، اُن کو تو آپ سے اتنی محبت اور عشق ہے کہ اُس کی دنیا میں کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔اس وقت عمرہ سے روکے جانے کا اُن کو اتنا شدید صدمہ ہوا ہے کہ اُن کے حواس پراگندہ ہو گئے ہیں وہ بڑی بڑی اُمید میں لے کر آئے تھے مگر آج اُن کی اُمید میں سب رائیگاں چلی گئیں اس لئے ان کے دماغ پر ایک پردہ سا پڑ گیا ہے ورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھیں کہ خدا کا رسول ہمیں ایک حکم دیتا ہے اور پھر وہ اس کی تعمیل نہ کریں۔انہوں نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ چپ کر کے جائیے اور اپنی قربانی ذبح کرنی شروع کر دیجئے پھر دیکھئے کہ کیا ہوتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزہ لیا اور آپ خاموشی سے قربانی کے پاس گئے اور اُس کی گردن پر نیزہ مار کر گرا دیا ، بات وہی تھی جو حضرت حفصہ نے کہی تھی ،صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کے شیدائی اور عاشق زار تھے جو نہی اُنہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے اپنی اونٹنی کو گرا لیا ہے، یکدم اُن کو ہوش آیا اور ایک صحابی کا بیان ہے کہ اُس کے بعد ہم اس طرح اپنی قربانیوں کی طرف دوڑے کہ اگر کوئی شخص ہمارے رستہ میں آتا تو ہمارا جی چاہتا تھا کہ ہم اُس کو قتل کر دیں۔تو جب انسان خود عمل کر لیتا ہے تو دوسرے بھی اُس کے نمونے کو دیکھ کر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اگر تم اس امید میں رہے کہ پہلے اسلامی احکام پر یہ عمل کرے یا وہ عمل کرے تب میں عمل کروں گا تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ، ہمارا خدا اگر ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے اور ہمارے بچے اور ہمارے عزیز ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو کیا ہوا، خدا کے کئی نبی ایسے گزرے ہیں جن کے رشتہ داروں نے انہیں نہیں مانا۔ابولہب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چا تھا مگر وہ آپ کا شدید ترین معاند تھا۔حضرت ابراہیم کے باپ، جو دراصل آپ کے چچا تھے ،انہوں نے تو اس قدر دکھ دیا کہ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا پس ہوا کیا اگر کوئی شخص تمہارا ساتھی نہیں بنتا، جب کوئی شخص اپنے دائیں اور بائیں نگاہ