خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 338
خطابات شوری جلد سوم ۳۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء کے بارے میں اختیار کرنا چاہئے۔بے شک شہروں میں شہروں کے قابل اور دیہات میں دیہات کے قابل آدمی رکھے جائیں مگر بہر حال کام سب انہی سے لیا جائے۔یہ کہنا کہ مولوی کو حساب نہیں آتا غلط ہے ہم مولوی اُس کو کہتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل فرمانبردار ہو۔رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم، ایک عظیم حساب دان بے شک محمدرسول الہصلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم حساب نہیں جانتے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جھوٹا حساب نہیں جانتے ورنہ ورثہ کے احکام جو آپ نے دئے ہیں وہ معمولی جمع تفریق سے نہیں آسکتے ورثہ کی بنیا دریشو (Ratio) کے علم پر ہے اور اس علم کے لئے بہت بڑی حساب فہمی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح زکوۃ کا علم بھی ا ہے جو حساب کے ساتھ گہراتعلق رکھتا ہے پس در حقیقت جب آپ نے کہا کہ ہم حساب نہیں جانتے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم جھوٹ اور فریب کا حساب نہیں جانتے یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم واقعہ میں حساب نہیں جانتے۔عملی نمونہ بہتر بنانے کی ضرورت ایک دوست نے توجہ دلائی ہے کہ ابھی تک جماعت کے نو جوانوں کو اپنی ظاہری شکل بھی اسلام کے مطابق بنانے کی توفیق نہیں ملی جو ایک بہت بڑا نقص ہے۔یہ درست ہے، اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت کے نوجوانوں کو اس طرف پوری رغبت نہیں مجھے تعجب آتا ہے کہ لوگ یہ تو شور مچائے جاتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کی حکومت ہونی چاہیے مگر جن امور میں اسلام کی حکومت ایک گھنٹہ میں قائم ہو سکتی ہے اُن کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسرا تو کام کرے مگر میں نہ کروں اور یہ کوئی صحیح طریق نہیں۔اصلاح تب ہوتی ہے جب انسان پہلے خود اپنی اصلاح کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے لئے تشریف لے گئے جس میں صلح حدیبیہ ہوئی اُس وقت ایک ایسا واقعہ رونما ہو ا جو اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل خواب میں دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں داخل ہوئے اور احرام باندھے ہوئے ہیں۔آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ چلو ہم عمرہ کر آئیں ( کیونکہ حج کا وقت نہ تھا ) صحابہ کو بھی شوق تھا، اُنہوں نے دنبے ، بکریاں اور اونٹ قربانی کے لئے اپنے ساتھ لئے اور سج سجا کر بارات کی طرح