خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 337

خطابات شوری جلد سو ۳۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ادا کرنے کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے اور تحریک جدید والے لکھتے ہیں کہ جہاد کا وقت آگیا السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ میں شامل ہونے کی کوشش کرو گویا جو تحریک میں حصہ لیتا ہے یہ اُس کا جہاد ہو گیا اور صدرانجمن کے نزدیک یہ محض ایک نفلی چیز ہے۔تحریک والے لکھتے ہیں کہ یہ چندہ ایسا ہے جیسا زندگی کے لئے سانس ہوتا ہے اور انجمن والے لکھتے ہیں کہ اصل چندہ تو انجمن کا ہے۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے جوتی پر پالش ہوتی ہے۔اگر اسی طرح انسپکٹر مقرر کرنے شروع کر دئے گئے تو لوگ ایک مصیبت میں پھنس جائیں گے اور جہاں چھوٹی جماعت ہوگی وہ تو اور بھی مخمصے میں مبتلا ہو جائے گی ، فرض کرو پہلے چندے والا انسپکٹر آگیا اور ان بیچاروں نے ادھر اُدھر سے آٹا جمع کر کے اُس کو چند دن کھلایا پلایا ، وہ گیا ہی تھا کہ نماز والا انسپکٹر پہنچ گیا اور اُن کو اُس کی خاطر تواضع کرنی پڑی وہ گیا تو روزے والا انسپکٹر آ گیا۔اگر یہ طریق جاری کیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ادھر انسپکٹر صاحب گاؤں میں داخل ہو رہے ہوں گے اور اُدھر گاؤں والے اپنے گاؤں سے نکل کر کسی اور گاؤں کو بھاگے جارہے ہوں گے۔پس انسپکٹر بڑھانا بالکل بے معنی بات ہے۔جو محصل رکھے جائیں وہ محنتی ہوں، دیانت دار ہوں، راست باز ہوں ، مختلف پیشوں سے واقف ہوں اور سارے کام اُنہی کے سپر د ہوں۔مجھے انگریزوں کی یہ بات بڑی بھاتی ہے کہ وہ پادریوں کا بڑا ادب اور احترام کرتے ہیں یہاں تو وہ مبشر اور Preacher ہوتے ہیں اس لئے اُن کی عزت کرنا ضروری ہوتا ہے مگر یورپ میں اُن کی یہ حالت نہیں ہوتی پھر بھی یورپ میں کسی جگہ چلے جاؤ اگر کوئی دہر یہ بھی ہوگا تو پادری کو اپنا باپ سمجھے گا اور ہر مصیبت کے وقت اُس کے پاس دوڑا جائے گا اور اُس سے مشورہ لے گا۔یہ روح اپنے اندر پیدا کرو اور سارے کام انسپکٹر کے سپرد کر دو بے شک اُس کا علاقہ چھوٹا کر دو مگر اس سے کام زیادہ لو اگر چندے کا سوال آئے تو اس کا ذمہ دار بھی وہی ہو اور اگر تربیت کی کمی کا سوال آئے تو اُس کا ذمہ دار بھی وہی ہو۔کیا دُنیا میں کسی کے دس باپ بھی ہوا کرتے ہیں؟ ایک ہی باپ ہوتا ہے۔مگر نماز بھی وہی ھاتا ہے، روزے بھی وہی رکھواتا ہے ، سچ بولنا بھی وہی سکھاتا ہے ، صناعی بھی وہی سکھاتا ، تعلیم بھی وہی دلاتا ہے۔اسی طرح ماں بھی ایک ہی ہوتی ہے مگر کھانا پکانا بھی وہی سکھاتی ہے، جھاڑو دینا بھی وہی سکھاتی ہے، کپڑے دھونا بھی وہی سکھاتی ہے۔یہی طریق ہمیں انسپکڑوں