خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 318

خطابات شوری جلد سوم ۳۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء چھ سات لاکھ روپیہ ہو سکتی ہے ہاں اگر جماعت میں بیداری پیدا ہو جائے اور وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھنے لگے اور اخلاص اور قربانی سے کام لے تو پھر آمد کی کمی کوئی معنی نہیں رکھتی۔پچھلی دفعه حفاظت مرکز کے لئے جب میں نے جائداد پر ایک فیصدی چندہ دینے یا ایک مہینہ کی آمد دینے کی تحریک کی تھی اور باہر سے جائدادوں کی لسٹیں آئی تھیں تو ہمارا اندازہ یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کی ماہوار آمد ۲۵ لاکھ روپیہ ہے اور ابھی بہت سے وعدے ناقص تھے اور بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنی ماہوار آمد کا وعدہ نہیں کیا تھا اور بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنا وعدہ ہی نہیں بھیجا تھا اور بعض کمزور بھی ہوتے ہیں جو اپنی جائدادوں کو کم کر کے دکھاتے ہیں بہر حال ساڑھے تیرہ لاکھ کے وعدے آچکے تھے اگر یہ تحریک جاری رہتی تو سولہ 4 لاکھ تک بہر حال پہنچ جاتی۔نادہندوں کو ملا کر اور ناقص چندہ دینے والوں کو ملا کر یا جن سے مصلحتاً چندہ نہیں لینا چاہیے جیسے ہندوستان کے باہر کے لوگ ہیں یہ رقم ۲۴ لاکھ تک پہنچ جاتی ہے اگر وصیت کے اصول پر دس فیصدی چندہ لیا جائے اور ۲۴ لاکھ سال کا چندہ شمار کیا جائے اور پھر تحریک جدید وغیرہ کے چندے بھی ملا دیئے جائیں تو یہ ۳۰ لاکھ روپیہ تک رقم جا پہنچی ہے اور اگر ۲۵ یا ۳۰ یا ۵۰ فیصدی کے حساب سے یہ چندہ لیا جائے تو ساٹھ ستر لاکھ روپیہ سالانہ تک ہماری آمد ہو سکتی ہے حقیقتا اگر اس معیار پر ہمارا چندہ آ جائے تو ہما را چندہ معمولی چندوں کے معیار کے لحاظ سے آسانی سے اٹھارہ بیس لاکھ تک پہنچ جاتا ہے لیکن ارادہ کرنا اور خواہش کرنا اور چیز ہے اور عمل کرنا اور چیز ہے ہم ارادہ کرتے ہیں لیکن اگر غیر ارادہ نہیں کرتا تو محض ہمارے ارادے سے کیا بن جاتا ہے ہم ایک چیز کی خواہش کرتے ہیں لیکن اگر ہمارا بھائی اُس کا شریک نہیں ہوگا تو ہماری خواہش سے کیا نتیجہ پیدا ہو سکتا ہے۔پس ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ پچھلے تجربہ کی بناء پر ہمارے لئے کتنی آمد ممکن ہے اس لحاظ سے میرے نزدیک موجودہ بجٹ کو پورا کرنے کے لئے بھی جماعت کو پوری جد و جہد کرنی پڑے گی چندوں کا معیار بڑھائیں اور اس کے لئے بہترین طریق جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہی ہے کہ ہمیں چندوں کا معیار بڑھانا چاہیے اس عرصہ میں پرانی جماعتیں انشاء اللہ کس جائیں گی یا نٹے کام اُن کے لئے نکل آئیں گے اور جب