خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 319

خطابات شوری جلد سوم ۳۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ایک لاکھ آدمی کام پر لگ جائے گا تو اگلے سال تک انشاء اللہ ایسی حالت ہو جائے گی کہ موجودہ خطرے کی صورت دُور ہو جائے گی اس وقت درحقیقت ہم پر قرض ہے یہ کہنا کہ ہیں ہزار قرضہ ہے، غلط ہے قرض ہے اور بہت بڑا ہے مگر نظر نہیں آرہا جب قادیان سے ہماری جماعت نکلی تو اُس وقت ہر چیز اپنے مرکز سے ہل گئی اور ایسی نازک حالت ہوگئی کہ ایک ایک ہفتہ میں بعض دفعہ صرف دوسوروپیہ کی آمد ہوتی تھی دوسورو پیہ ہفتہ کی آمد کے یہ معنے ہیں کہ سال میں صرف دس ہزار روپیہ ہماری آمد کی توقع ہوسکتی تھی اُس وقت میں نے یہ حکم دے دیا کہ جو بھی خرچ صدر انجمن احمدیہ کا ہو وہ حفاظت مرکز کی مد سے لے لیا جائے اس لئے جب وہ حساب ہوگا تو لاکھ ڈیڑھ لاکھ قرض اور آ پڑے گا سوائے اس کے کہ اس خرچ کو کسی الگ تحریک کے ذریعہ پورا کیا جائے مگر اس کے لئے پھر آپ لوگوں کو ہی چندہ دینا پڑے گا۔پس اصل میں ہیں ہزار نہیں بلکہ دو تین لاکھ روپیہ قرض ہے۔اس کے ساتھ ایک اور بھی بات ہے اور وہ یہ کہ ہمارا آٹھ لاکھ روپیہ جمع بھی ہے جو گزشتہ سالوں کی زائد آمد کو پس انداز کر کے اکٹھا کیا گیا تھا مگر اس میں سے بہت سا روپیہ قادیان کی جائدادوں پر لگا ہوا ہے اور وہ ہمارے قبضہ میں نہیں بلکہ سکھوں اور ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں اس لئے وہ آٹھ لاکھ تقریباً چار لاکھ رہ گیا ہے اور قرضہ میں ہزار نہیں بلکہ تین لاکھ ہے اور اگر ریز روفنڈ سے قرض ادا کیا گیا تو ہمارا ریز روفنڈ صرف لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کا رہ جائے گا۔چار مہینوں کی آمد کا جو بجٹ دکھایا گیا ہے وہ دو لاکھ دس ہزار روپیہ کا ہے اور خرچ کا بجٹ چار لاکھ بارہ ہزار روپیہ کا ہے۔اس دو لاکھ روپیہ کو بھی اگر مدنظر رکھا جائے تو گویا ہمارا سارا ریز روفنڈ اس ابتلاء میں خرچ ہو جائے گا اور لاکھ روپیہ ابھی انجمن پر قرض ہوگا گویا سلسلہ کو اس فتنہ میں علاوہ جائدادوں کے نو لاکھ روپیہ کا نقصان بنتا ہے پس بجٹ کی حالت اتنی تسلی بخش نہیں جتنی عبد الباری صاحب نے پیش کی ہے اور نہ اتنی تسلی بخش ہے جتنی سب کمیٹی نے پیش کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اپریل تک انجمن کے تمام ذخائر ختم ہو چکے ہیں آئندہ اگر آمد وخرچ برابر نہ ہوئے تو اگلے سال انجمن مقروض ہوگی۔اگر آمدن کچھ زیادہ ہوئی تو دو لاکھ کی بجائے ایک لاکھ کا قرض ہوگا۔بہر حال سال کے آخر میں اگر یہی صورت جاری رہی تو ہماری حالت مقروضوں کی سی ہوگی۔