خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 317
خطابات شوری جلد سوم ۳۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ہماری آمد بھی غلط ہے اور ہمارا خرچ بھی غلط ہے ہماری آمد یقیناً کم ہوگی نائب ناظر صاحب چونکہ نو جوان اور ناتجربہ کار ہیں وہ تین چار ہفتوں کی آمد پر بنیا درکھ کر یہ قیاس کر رہے ہیں کہ ہماری اس قدر سالانہ آمد ہوگی اس میں کچھ شبہ نہیں کہ پچھلے چار پانچ ہفتوں کی آمد یکدم زیادہ ہوگئی ہے پہلے دو دو سو روپیہ آمد ہوا کرتی تھی پھر اس آمد میں ترقی ہوئی تو پانچ ہزار سے دس ہزار تک جا پہنچی گویا اوسط سات آٹھ ہزار روپیہ رہنے لگی۔اس کے معنی یہ تھے کہ اگر دوسری آمد میں ملا لی جائیں تو ۵۵ ہزار روپیہ ماہوار یا ساڑھے چھ لاکھ روپیہ سالانہ ہماری آمد ہوتی لیکن پچھلے پانچ ہفتوں میں ہر ہفتہ ۱۵ ہزار ۲۰۰ ہزار بلکہ ۲۸ ہزار تک بھی ہماری آمد پہنچ گئی ہے اگر اس کی اوسط نکالی جائے تو ۲۱ ہزار اوسط بنتی ہے اور ۲۱ ہزار ہفتہ وار کے معنی اا لاکھ سالانہ آمدن کے ہیں۔نائب ناظر صاحب نا تجربہ کاری کی وجہ سے سمجھ رہے ہیں کہ اتنی آمد یقیناً ہوگی اور میں نے بڑی چالا کی کی ہے جو میں نے نو لاکھ روپے آمد دکھائی ہے۔دراصل میں نے دو لاکھ روپیہ بچالیا ہے مگر حقیقتا یہ درست نہیں جو آمد بڑھی ہے اس میں کافی حصہ اُن رقوم کا ہے جو اگست ستمبر اور اکتوبر میں لوگوں نے بھجوائیں مگر فسادات کی وجہ سے اُن کی رقوم ابھی رُکی پڑی تھیں یا اُنہوں نے چیک بھجوائے مگر وہ چیک ابھی draw نہیں ہوئے تھے یا منی آرڈر بھجوائے اور وہ بٹالہ ، قادیان اور گورداسپور میں ڑکے ہوئے ہیں اس طرح ڈیڑھ لاکھ کے قریب رقم تھی جو ہمیں ادا نہیں ہوئی تھی۔اس میں سے نصف کے قریب رقم ہمیں واپس مل گئی اور ۷۲ ہزار کے قریب رقم اب بھی ایسی ہے جو بنکوں میں پڑی ہے اور ہمیں ابھی تک نہیں ملی کیونکہ کچھ چیک جماعتوں کو واپس بھجوائے گئے ہیں تاوہ نئے بنا کر بھیجیں اس لئے جب تک نئے چیک نہ آجائیں ہمیں بنکوں سے وہ رقم واپس نہیں مل سکتی۔پس زیادتی آمد میں بڑا حصہ اُن رقوم کا ہے جو درحقیقت اگست اور ستمبر اور اکتوبر کی آمد نہیں ہیں مگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ رقم ہمیں ہمیشہ ملتی رہے گی۔ہم کہتے ہیں پچاس کیا ہو کیا اور ہزار کیا جو کچھ آئے گا ، سلسلہ کے پاس ہی آئے گا لیکن عقلی طور پر جب ہم کوئی بنیاد رکھیں تو ہمیں اُس کی اُونچ نیچ پوری طرح دیکھ لینی چاہیے۔اگر ہر قسم کی رکاوٹیں دور ہو جائیں تو موجودہ صورت میں ہم اپنی اوسط آمدن اور آمدنوں کو ملا کر اگر لگا ئیں تو صرف ۱۵ ہزار فی ہفتہ لگانی چاہیے اور پندرہ ہزار ہفتہ وار آمد کے معنی پونے آٹھ لاکھ روپے سال کے ہیں اور اگر خدانخواستہ روکیں رہیں تو اس سے بھی کم آمد کی توقع ہوگی اور وہ زیادہ سے زیادہ