خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 298

خطابات شوری جلد سوم ۲۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء پریشان کر دینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن اس دفعہ کے فسادات کی خبر جب مجھے ملی تو میرے دل میں اس کے متعلق قطعاً کوئی جس پیدا نہ ہوئی حالانکہ ان واقعات سے ہزاروں حصہ کم واقعات بھی بسا اوقات میری تشویش اور اضطراب کا موجب بنتے رہے ہیں۔بات یہ ہے کہ جس وقت مجھے ان فسادات کی خبر ملی تو معا میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میرے پیچھے ان واقعات کا ہونا دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور رکھتا ہے، یا تو کوئی لڑائی ہونی ہی نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ " امام ڈھال ہوتا ہے اور لڑائی ہمیشہ امام کے پیچھے ہو کر کی جاتی ہے اور چونکہ خدا نے مجھے جماعت کا امام بنایا ہے اور میں اس وقت مرکز سے باہر ہوں اس لئے میری عدم موجودگی میں وہاں کوئی لڑائی نہیں ہوسکتی اور جب کوئی لڑائی نہیں ہو سکتی تو مجھے کسی تشویش کی کیا ضرورت ہے۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور بعض حوادث اور ابتلاء مقدر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان حوادث سے بچا کر الگ کر لیا ہے اس صورت میں بھی میرے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔پس با وجود اس کے کہ اس سے ہزاروں حصہ کم واقعات پر بھی میرے دل میں انتہائی تشویش اور بے چینی پیدا ہو جایا کرتی ہے ان فسادات پر میرے دل میں کوئی بے چینی نہیں تھی ، میں سمجھتا تھا کہ اگر الہی مصلحت یہی ہے کہ میں باہر رہوں تب بھی میرے لئے کوئی پریشانی کی وجہ نہیں ہو سکتی اور اگر یہ درست ہے کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے اور لڑائی ہمیشہ امام کے پیچھے ہو کر کی جاتی ہے تو جب تک میں وہاں نہیں ہوں گا قادیان میں کوئی فساد نہیں ہوگا۔ان وجوہ کی بناء پر میرے اندر کوئی گھبراہٹ نہیں تھی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ باوجود ہماری تمام کوششوں کے کہ ہندؤوں اور مسلمانوں میں صلح ہو جائے تمام اقوام کے لوگ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں اور آپس کے جھگڑوں کو محبت اور پیار کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کریں، ملک کی فضاء ابھی تک درست نہیں ہوئی۔جوں جوں ہم نے کوشش کی کہ لوگوں کو اپنے قریب کریں اور انہیں محبت اور پیار سے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کی نصیحت کی ہماری ان کوششوں میں روکیں پیدا ہوتی چلی گئیں۔شاید اللہ تعالیٰ کی ان فسادات میں ایک یہ بھی حکمت ہو کہ یہ آزمائش اور ابتلاء ایسے مقام پر پہنچ جائیں کہ