خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 299
خطابات شوری جلد سوم ۲۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ان کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کے قلوب صاف ہو جائیں۔اگر ایسی حالت میں صلح ہو جائے جب کہ دل صاف نہ ہوں تو وہ صلح دیر پا نہیں ہوتی مگر جھگڑے اور فسادات جب انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں تو قلوب میں بھی تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور وہ تبدیلی زیادہ بہتر نتائج پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے۔ہر جمعرات کو نفلی روزہ کی تحریک بہر حال جماعت کا فرض ہے کہ ان نہایت ہی نازک ایام میں بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ اپنے دن گزارے اور دعاؤں سے خصوصیت کے ساتھ کام لیا جائے اسی لئے میں نے ہر جمعرات کو روزہ رکھنے اور دعائیں کرنے کی جماعت میں تحریک کی ہے۔میں چونکہ روزوں کا اعلان کرنے کے معاً بعد سندھ چلا گیا اور خطبہ جلدی شائع نہ ہوا اس لئے میں نے اعلان کر دیا تھا کہ روزے ۲۰ مارچ سے شروع ہوں گے مگر بعض نے میرے پہلے اعلان کی بناء پر ۱۳ / مارچ کو بھی روزہ رکھ لیا اس طرح اُن کے آٹھ روزے ہو جائیں گے اور وہ ایک زائد روزہ کے ثواب کے مستحق ہوں گے۔بہر حال پہلا روزہ ۲۰ / مارچ کو رکھا گیا تھا ، دوسرا روزه ۲۷ / مارچ کو رکھا گیا ، تیسرا روزہ ۳ اپریل کو رکھا گیا، چوتھا روزہ ۱۰ اپریل کو رکھا جائے گا ، پانچواں روزہ ۱۷ را پریل کو رکھا جائے گا، چھٹا روز ہ۲۴ / اپریل کو رکھا جائے گا اور ساتواں روزہ یکم مئی کو رکھا جائے گا۔جماعت کے دوستوں کو چاہیئے کہ وہ تعہد کے ساتھ یہ روزے رکھیں اور نہ صرف خود روزے رکھیں بلکہ دوسروں کو بھی روزے رکھنے کی تاکید کریں اور اپنی عورتوں اور اپنے بچوں کو بھی روزے رکھا ئیں جو روزے رکھنے کے قابل ہیں۔اور سب کے سب مل کر خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں کیونکہ اجتماعی دُعا جس میں چھوٹے اور بڑے سب شریک ہو جاتے ہیں خدا تعالیٰ کے فضلوں کو خاص خاص لوگوں کی دُعاؤں سے بھی زیادہ جذب کرتی ہے۔“ بعض سوالوں کے جواب اس موقع پر ایک دوست نے سوال کیا کہ کیا سفر میں روزہ رکھا جاسکتا ہے؟ حضور نے فرمایا:۔سفر میں فرض روزہ منع ہے نفلی نہیں۔بسا اوقات بظاہر ضائع ہونے والی قربانی بظاہر قبول ہونے والی قربانی سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور ہر مومن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کسی مرحلہ