خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 297
خطابات شوری جلد سوم ۲۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء جائیداد کی ایک فیصدی قیمت زیادہ ہو تو وہ دی جائے اور اگر مہینہ کی آمد زیادہ ہو تو وہ دی جائے۔اصل روح یہی ہے باقی عذرات کی کئی صورتیں انسان اپنے لئے پیدا کر لیتا ہے۔اب رہ گئیں دوسب کمیٹیاں ! ایک سب کمیٹی نظارت علیاء اور ایک سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت و امور عامہ۔میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ اِن سب کمیٹیوں کی رپورٹ پر غور و خوض کیا جا سکے ، اس لئے میرے نزدیک اگر ان امور کو ہم اگلے سال پر ملتوی کر دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ہم ٹھیک بارہ بجے مجلس کی کارروائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پونے تین بجے کی گاڑی پر دوستوں نے واپس جانا ہے اور پھر دوستوں نے ابھی کھانا بھی کھانا ہوگا اور نماز بھی پڑھنی ہوگی اس لئے میرا فیصلہ یہی ہے کہ نظارت علیاء، نظارت تعلیم و تربیت اور نظارت امور عامہ کی تجاویز کو اگلے سال پر ملتوی کیا جاتا ہے۔یہ تجاویز ایسی اہم نہیں کہ ان کے متعلق اسی سال کوئی فیصلہ کرنا ضروری ہو۔جس طرح پہلے عمل ہوتا رہا ہے اُسی طرح دوران سال میں بھی عمل ہوتا رہے، اگر درمیان میں ضرورت محسوس ہوئی تو دوبارہ مجلس شوریٰ بلالی جائے گی اور اس میں علاوہ اور امور کے ان باتوں پر بھی غور کر لیا جائے گا۔پس بجٹ پر ہی میں مجلس کی کارروائی کو ختم کرتا ہوں۔“ مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے آنے والے نازک اختتامی تقریر ایام کا ذکر کرتے ہوئے دُعاؤں اور قربانیوں سے کام لینے اور جماعت کو اُس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔” دوستوں کو میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ دن نہایت ہی نازک ہیں، ان دنوں کی نزاکت کا احساس جہاں تک میں سمجھتا ہوں قریباً ہر احمدی کے دل میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ کل ہی کسی دوست نے کہا تھا کہ ہمیں گزشتہ فسادات کے دنوں میں جب ڈاک اور تار کا سلسلہ بند ہو جانے کی وجہ سے مرکز سے کوئی اطلاعات نہ پہنچیں تو سخت تشویش رہی اور جماعتوں نے نہایت اضطراب میں یہ ایام بسر کئے ، یہ درست ہے اور چونکہ میں بھی اُن دنوں قادیان سے باہر تھا اس لئے قدرتی طور پر مجھے بھی تشویش ہونی چاہئے تھی اور چونکہ میرا دل نہایت حساس واقع ہوا ہے اس لئے بسا اوقات ایک معمولی سی بات بھی مجھے