خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 251
خطابات شوری جلد سوم 1ō ۲۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء آمد ہوئی۔اب میں سب کمیٹی نمبر ۲ کی تجویز کے متعلق رائے لیتا ہوں۔جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ بجٹ کے اندازہ کے لئے گزشتہ سال کی آمد لی جائے اور تشخیص اور وصولی اس سال کی اصل آمد کے مطابق ہو جس میں وہ آمد ہوئی۔وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۳۰۵ دوست سب کمیٹی نمبر۲ کی تجویز کے حق میں کھڑے ہوئے ایک ووٹ مخالف تھا۔حضور نے فرمایا:۔فیصلہ میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ بجٹ کے اندازہ کے لئے گزشتہ سال کی آمد لی جائے لیکن تشخیص اور وصولی اُسی سال کی اصل آمد کے مطابق ہو جس میں وہ آمد ہوئی۔” دوسری تجویز یہ تھی کہ تاجروں اور صناعوں اور پیشہ وروں کی آمدنی کے تعین کے لئے ہر بڑے شہر میں (جس کا فیصلہ نظارت بیت المال کے اختیار میں ہوگا )۔حسب ہدایت ناظر بیت المال ایک بورڈ مقرر ہوا کرے جس کا ایک ممبر نظارت بیت المال کا مقرر کردہ نمائندہ ہوگا اور وہی اس بورڈ کا صدر ہوگا اور باقی دو ممبر مقامی امیر یا پریذیڈنٹ کے نامزد کردہ ہونگے۔اس بورڈ کے سامنے چندے کی تعیین کے لئے تمام وہ کیس پیش ہونگے جو نظارت بیت المال اُس بورڈ کے سامنے پیش کرنا چاہے اور پھر اُس بورڈ کے اتفاق رائے کے فیصلے فریقین کے لئے واجب التعمیل ہوں گے۔مگر وہ فیصلے جو کثرتِ رائے سے کئے جائیں گے اُس میں ہر فریق کو جو اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا چاہے ناظر بیت المال کے سامنے اپیل کرنے کا حق ہوگا۔حضور نے فرمایا:۔سب کمیٹی نمبر ۲ نے اس ترمیم کے ساتھ اس تجویز کو پیش کرنا منظور کیا ہے کہ ’ تاجروں اور صناعوں اور پیشہ وروں کی آمد کی تعیین کے لئے جہاں ناظر صاحب بیت المال مناسب سمجھیں بورڈ مقرر کریں جس کا ایک ممبر نظارت بیت المال کا مقرر کردہ ہو اور باقی دوممبران مقامی جماعت کی طرف سے منتخب شدہ ہوں ( مقامی جماعت کے متعلق حضور نے سیکرٹری صاحب سب کمیٹی نمبر ۲ سے دریافت فرمایا کہ مقامی جماعت سے مراد ساری مقامی جماعت ہے یا صرف تاجروں اور صناعوں کی جماعت ؟ سیکرٹری صاحب نے