خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 250
خطابات شوری جلد سوم ۲۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء عام نظر آتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے اس طرح کیا تھا ہم کیوں نہ کریں اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر اس نے گناہ کیا تو کیا تمہارے لئے وہ گناہ کرنا جائز ہو گیا ہے۔یہ شادی بیاہ کے معاملات ایسے ہیں کہ ذراسی غفلت سے قو میں کہیں کی کہیں جا پہنچتی ہیں اس لئے ان میں کسی قسم کا غیر شرعی طریق جاری نہیں رکھا جاسکتا۔رپورٹ سب کمیٹی بیت المال نمبر ۲ محترم عبد الباری صاحب سیکرٹری سب کمیٹی بیت المال نمبر ۲ کی طرف سے رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے فرمایا :۔دوستوں نے سب کمیٹی کی رپورٹ سن لی ہے۔ناظر صاحب بیت المال کی طرف سے زمینداروں کے تشخیص بجٹ کے لئے یہ تجویز تھی کہ ہر زمیندار کی تین سال کی اصل آمد سال وار معین کر کے اوسط بشر ح ۱/۳ نکالی جائے اور اس اوسط پر چندہ لگایا جائے۔خواہ کسی سال میں اس اوسط سے زمیندار کی آمد بڑھ جائے یا گھٹ جائے۔یہ تین سال ہر سال پہلے سال کے اخراج اور اگلے سال کے ادخال سے بدلتے رہیں گے لیکن سب کمیٹی نے کہا ہے کہ یہ کام مشکل اور پیچیدہ ہے۔ہر جماعت میں ایسے آدمی نہیں مل سکتے جو بخوبی یہ کام کر سکیں اور پھر فارم کی خانہ پُری تو اُن کے لئے اور بھی مشکل ہوگی پھر بعض جماعتیں ایسی ہوتی ہیں جہاں پڑھے لکھے نہیں ہوتے اس لئے ناظر صاحب بیت المال کی تجویز پر عمل کرنا مشکل ہے۔اس کی بجائے سب کمیٹی نے یہ تجویز دی ہے کہ بجٹ کے اندازہ کے لئے گزشتہ سال کی اصل آمد لی جائے لیکن وصولی اسی سال کی اصل آمد کے مطابق ہو جس میں وہ آمد ہوئی ہے۔فرض کرو پچھلے سال کسی کو دوسو روپے کی آمد ہوئی ہے تو تشخیص بجٹ کے وقت ہم دوسو کا اندازہ لگائیں گے لیکن وصولی ہم اُس کی اصل آمد کے لحاظ سے کریں گے۔جو دوست اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر چند ممبران نے اپنے رائے کا اظہار کر چکے تو حضور کھڑے ہوئے اور فرمایا :۔66 ام لکھوائے۔جب دوست اپنی اپنی سب کمیٹی نمبر ۲ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ بجٹ کے اندازہ کے لئے گزشتہ سال کی آمد مد نظر رکھی جائے اور وصولی اور تشخیص اسی سالی کی اصل آمد کے مطابق ہو۔جس میں وہ