خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 217
خطابات شوری جلد سوم ۲۱۷ مشاورت ۱۹۴۶ء ہماری جماعت کا مرکز سے ایسا ہی تعلق ہونا چاہئے جیسے ایک جانور رسہ سے بندھا ہوا ہوتا ہے یا جیسے ایک گھوڑا کیلے سے بندھا ہوا ہو تو جب وہ دور جاتا ہے رستہ اس کے گلے میں پھنسنے لگتا ہے اور وہ پھر اپنے کیلے کی طرف آنے پر مجبور ہوتا ہے۔یہی حال ہراحمدی کا ہونا چاہئے اور اُسے بار بار مرکز میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ جو اہم تغیرات دُنیا میں ہونے والے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ جماعت زیادہ سے زیادہ اخلاص میں اور قربانی میں اور ایثار میں مضبوط ہو۔ایسا نہ ہوا تو وقت پر بہت لوگ کچے دھاگے ثابت ہوں گے اور سلسلہ کو تقویت پہنچانے کی بجائے دوسروں کو گرانے اور ان کے قدم کو بھی متزلزل کرنے کا موجب ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو نومسلموں میں سے بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اب جو طائف والوں سے جنگ ہونے والی ہے اس میں ہمیں بھی شامل ہونے کا موقع عنایت فرمائیں۔پرانے صحابہ اپنے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے بہادر ہیں حالانکہ جب آپ سے لڑائی تھی اُس وقت خدا ہمارے سامنے تھا اور ہم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔پس اگر ہم آپ کے مقابلہ میں بھاگے تو ہم کسی انسان کے ڈر سے نہیں بھاگے بلکہ خدا تعالیٰ کی طاقت کو دیکھ کر بھاگے اس لئے ہماری بہادری کا گزشتہ لڑائیوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، ہماری جرأت اور ہماری بہادری کا آپ اُس جنگ سے قیاس کر سکیں گے جو ثقیف اور ہوازن والوں سے ہونے والی ہے اس لئے آپ ہمیں بھی شامل ہونے کی اجازت عطا فرمائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اجازت ہے دس ہزار مسلمانوں کا اور دو ہزار نو مسلموں کا لشکر تھا جو دشمن کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوا۔طائف کے قبائل بہت ہوشیار تھے چونکہ اسلامی لشکر نے تنگ راستوں میں سے گزرنا تھا اس لئے اُنہوں نے پانچ سو تیر انداز ایک طرف اور پانچ سو تیرانداز دوسری طرف کھڑے کر دیئے اُن کا اپنا لشکر کل چار ہزار کا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم اتنے تھوڑےلشکر سے مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اُنہوں نے اس کا علاج یہ سوچا کہ اپنے تیرانداز راستہ کے دونوں طرف کھڑے کر دیئے تا کہ راستہ میں ہی وہ اسلامی لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ کر دیں