خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 218

خطابات شوری جلد سوم ۲۱۸ ت ۱۹۴۶ء اور اُسے آگے بڑھنے سے روک دیں۔جب فوج اس تنگ درّہ میں پہنچتی تو ایک ہزار تیراندازوں نے اونچی جگہ سے تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔جب ایک ہزار تیر متواتر گرنا شروع ہوا اور کچھ آدمیوں کو ، کچھ گھوڑوں کو اور کچھ اونٹوں کو لگے تو وہ ٹومسلم جوا کرتے ہوئے اسلامی لشکر کے آگے آگے جا رہے تھے اُنہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔مسلمان جو پیچھے چلے آرہے تھے وہ بھی اپنی حفاظت نہ کر سکے اور نتیجہ یہ ہوا کہ بارہ ہزار کا بارہ ہزار لشکر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے رگر د۱۲ آدمی رہ گئے۔تب ابوسفیان بن الحارث آگے بڑھے اور اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر کہا یا رسول اللہ ! آپ کیا کرتے ہیں، اس وقت واپس لوٹیے ، ہم لشکر اسلامی کو اپنے ساتھ لے کر کفار پر پھر حملہ کریں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو۔پھر آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھنا شروع کر دیا کہ:۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب۔أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ میں جھوٹا نہیں کہ میدان چھوڑ دوں۔میں نبی ہوں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔اُس وقت صحابہ کے دل تم سمجھ سکتے ہو کہ کس طرح اچھل رہے اور دھڑک رہے ہوں گے مگر ان کے لئے سوائے اس کے کیا چارہ تھا کہ آگے سے ہٹ جائیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارادہ میں حائل نہ ہوں۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس سے کہا کہ ادھر آؤ اور اونچی آواز سے مسلمانوں کو آواز دو۔چونکہ یہ شکست مکہ والوں کی بیوقوفی سے ہوئی تھی اس لئے مکہ والوں کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عباس! بلند آواز سے کہو کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔اُس وقت مہاجرین کا نام آپ نے نہیں لیا کیونکہ مہاجرین مکہ والوں کے رشتہ دار تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ والوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمانا چاہتے تھے۔ایک انصاری کہتے ہیں اُس وقت ہماری حالت یہ تھی کہ ہم اپنے گھوڑوں کو پیچھے کو ٹاتے اور پورے زور سے اُن کی باگیں کھینچتے تھے یہاں تک کہ ہمارے ہاتھ زخمی ہو جاتے اور جانوروں کی گردن اُن کی پیٹھ سے جالگتی تھی مگر جب لگام ذرا ڈھیلی ہوتی