خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 213
خطابات شوری جلد سوم ۲۱۳ رت ۱۹۴۶ء تیزی کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جائے۔چھٹے وقف زندگی کی تحریک ہے جس کی طرف میں نے بار ہا توجہ دلائی ہے۔اس موقع پر میں پھر جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں مولوی فاضلوں اور گریجوایٹوں کی فوری طور پر ضرورت ہے۔جب جماعت کے نمائندے یہاں سے واپس جائیں تو وہ اپنی جماعتوں میں بار بار اس کا اعلان کریں۔شاید کوئی مولوی فاضل ایسا چھپا ہوا موجود ہو جس نے زندگی وقف نہ کی ہو یا ممکن ہے بعض گریجوایٹ ایسے ہوں جنہوں نے ابھی تک اپنی زندگی وقف نہ کی ہو۔گو بہت سے مولوی فاضل اور گریجوایٹ اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں مگر پھر بھی ہو سکتا ہے کہ ابھی بعض لوگ رہتے ہوں اس لئے بار بار جماعتوں میں یہ اعلان کیا جائے کہ وقف زندگی کی تحریک میں سلسلہ کو مولوی فاضلوں اور نوجوانوں کی ضرورت ہے۔جن نوجوانوں نے ابھی تک اپنے آپ کو وقف نہ کیا ہو وہ اب وقف کر کے سلسلہ کی ضرورت کو پورا کریں۔ہمارے مبلغ جو باہر گئے ہوئے ہیں اُن میں سے یورپین ممالک میں 9 مختلف مقامات پر ہمارے مبلغ موجود ہیں۔کسی ملک میں تین ہیں کسی میں چار اور کسی میں پانچ لیکن ابھی ۱۳ جگہیں خالی پڑی ہیں۔اگر ہر جگہ دو مبلغ بھی بھجوائے جائیں تو فوری طور پر ہمیں ۲۶ گریجوایٹوں کی ضرورت ہے۔۱۵۔۲۰۔ایسے گریجوایٹوں کی ضرورت ہے جو مرکزی دفاتر میں کام کر سکیں اور پھر ۲۶۔ایسے مبلغ بھی ہونے چاہئیں جو ان مبلغوں کے قائم مقام بن سکیں تاکہ تین چار سال کے بعد جب ایک گروپ واپس آئے تو اُس کی جگہ دوسرے گروہ کو بھجوایا جا سکے۔اگر سر دست قائم مقاموں کا سوال ترک بھی کر دیا جائے گو اس کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تب بھی ۴۶ گریجوایٹوں کی ہمیں فوری طور پر ضرورت ہے۔۲۶ بیرونی ممالک کے لئے اور ۱۵۔۲۰ مرکزی دفاتر کے لئے تا کہ آدمیوں کی کمی کی وجہ سے ہمارے محکموں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔جماعت مرکزی دفاتر کے کاموں پر اعتراض تو کر دیا کرتی ہے مگر وہ سوچتی نہیں کہ ہمارے بعض ناظر اب اتنے ضعیف ہو چکے ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد انہیں ہاتھ سے پکڑ کر کرسی پر بٹھانا اور اُٹھانا پڑے گا اس لئے اُن سے اب کسی زیادہ کام کی توقع نہیں کی جاسکتی۔وہ دماغی کام تو کر سکتے ہیں مگر دوڑ دھوپ والے کام نہیں کر سکتے۔یہ کام نوجوان طبقہ سے وابستہ ہیں۔انجمن نے اپنی غفلت سے