خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 206
خطابات شوری جلد سوم ۲۰۶ رت ۱۹۴۶ء۔اور جان کی قربانی کے معنے ہفتہ یا مہینہ میں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ وقت دے دینا ہے۔حالانکہ وہ وقت ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ چندہ دینے کا نہیں ہو گا نہ اپنے اوقات میں سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ وقت دینے کا ہوگا بلکہ سارے کا سارا مال اور ساری کی ساری جان خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دینے کا وقت ہو گا۔تب ممکن ہے کہ ۱۰۰ میں سے ۱۰ یا ۱۲ یا ۶ یا ۴ تو آگے بڑھیں اور باقی جماعت خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے سے محروم رہ جائے اور پھر بعد میں باوجود اس کے کہ وہ بہتیرا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چلائیں اور شور مچائیں پھر بھی دروازہ اُن کے لئے نہ کھولا جائے اور وہ خدائی قلعہ میں داخل ہونے سے محروم ہو جائیں۔جیسے حضرت مسیح نے کہا کہ جب میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا تو میرے انتظار میں بہت سی کنواریاں اپنے ہاتھ میں شمعیں لے کر کھڑی ہوں گی۔اُن میں سے کچھ تو ایسی ہوں گی جو تیل کا کافی ذخیرہ اپنے ساتھ لے کر جائیں گی کیونکہ وہ کہیں گی کہ ہمیں کیا معلوم آنے والا کب آتا ہے ہم صرف اتنا تیل اپنے ساتھ کیوں لے جائیں جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ختم ہو جائے۔ہم اپنے ساتھ کافی تیل لے جائیں گی تاکہ دولہا آنے میں دیر لگائے تو ہماری شمعیں بجھ نہ جائیں۔تیل ہمارے پاس ہو اور ہم اس کے انتظار میں کھڑی رہ سکیں لیکن کچھ بے وقوف ہوں گی جو سمجھیں گی کہ آنے والا دس پندرہ منٹ تک آ جائے گا ۱۵ منٹ میں نہ آ سکا تو آدھ گھنٹہ تک آجائے گا، آدھ گھنٹہ میں نہ پہنچا تو ایک گھنٹہ میں پہنچ جائے گا، ایک گھنٹہ میں نہ آیا تو ڈیڑھ گھنٹہ میں آجائے گا اس سے زیادہ اس نے کیا دیر لگانی ہے۔وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کا اندازہ کر کے تیل اپنے ساتھ لے جائیں گی اور آنے والے کا انتظار کریں گی مگر آنے والا نہیں آئے گا اور وہ اُس کے انتظار میں کھڑی رہیں گی یہاں تک کہ ان کا تیل ختم ہو جائے گا اور شمعیں بجھ جائیں گی تب وہ اپنی ساتھیوں سے کہیں گی کہ دولہا کے آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے اور ہم جس قدر تیل اپنے ساتھ لائی تھیں ختم ہو چکا ہے اپنے تیل میں سے کچھ ہمیں بھی دو تا کہ ہم آنے والے دولہا کا انتظار کریں۔وہ انہیں جواب دیں گی کہ ہم تمہیں کیوں تیل دیں اور کیوں اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالیں؟ جاؤ اور بازار سے تیل لے آؤ۔جب وہ بازار سے تیل لینے جائیں گی تو دولہا یعنی مسیح آجائے گا اور وہ اُس کے دیکھنے سے محروم رہ جائیں۔دولہا اپنی دلہنوں کو لے کر قلعہ میں داخل ہو جائے گا اور اُس کا دروازہ بند کر لے گا