خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 205

خطابات شوری جلد سوم ۲۰۵ ت ۱۹۴۶ء کہ چوبیس گھنٹہ میں گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ دے دیا اور ان کی نظروں سے یہ بات بالکل اوجھل ہو جاتی ہے کہ کسی دن سچ سچ ہمیں اپنی جان اور اپنا مال قربان کرنے کے لئے آگے بڑھنا پڑے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے ایک طبقہ میں بھی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ وہ الفاظ جو جان اور مال کی قربانی کے متعلق ہماری جماعت میں عام طور پر استعمال کئے جاتے ہیں وہ اپنے اندر بہت چھوٹے معنے رکھتے ہیں۔الفاظ بے شک بڑے ہیں لیکن ان کا مفہوم بہت معمولی ہے مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اس سے جان کا واقع میں مطالبہ نہیں کیا جاتا ، اگر اس سے سارا مال نہیں لیا جاتا تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ان الفاظ کا مفہوم چھوٹا ہے یا ابھی وہ دن نہیں آیا کہ تم سے یہ مطالبات کئے جائیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ابھی تمہارے دل چھوٹے ہیں اور تم پر یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ وہ اس زمانہ کو پیچھے کرتا چلا جا رہا ہے۔ورنہ یہ ہو نہیں سکتا کہ بغیر مال اور جان کی قربانی پیش کرنے کے کوئی جماعت خدا کی جماعت کہلا سکے۔پس غافل مت ہو جانا اور شیر آیا شیر آیا کی آواز سُنتے سنتے یہ خیال مت کر لینا کہ تم سے کوئی مذاق کیا جا رہا ہے۔پہلے ایک آواز آئے گی اور تم میں سے سو فیصدی لوگ اُس آواز کی طرف دوڑ پڑیں گے پھر دوسری دفعہ آواز آئے گی تو تم میں سے ۹۹ فیصدی اُس آواز کی طرف جائیں گے اور ایک شخص کمزوری دکھا کر پیچھے رہ جائے گا اور وہ خیال کرے گا کہ یہ محض ایک دل لگی کی بات ہے ورنہ قربانی کیسی اور ایثار کیسا۔پھر تیسری آواز اُٹھے گی تو اٹھا نوے اُس آواز پر لبیک کہیں گے اور دو پیچھے رہ جائیں گے۔پھر چوتھی آواز بلند ہو گی تو ۹۷ جائیں گے اور پیچھے رہ جائیں گے۔اس طرح ہوتے ہوتے اتنا لمبا عرصہ اس قربانی کے عملی ظہور پر گزر جائے گا کہ بالکل ممکن ہے آخر میں جب واقع میں شیر آجائے اور حقیقی اور سچی آواز خدا تعالیٰ کے نمائندہ کے منہ سے نکلے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ہو جائے کہ وہ آواز جو آج سے ۶۰،۵۰ سال پہلے بلند کی جا رہی تھی اُس کا حقیقی ظہور ہو تو اُس غفلت کی بناء پر جو مرورِ زمانہ کی وجہ سے تم پر طاری ہو چکی ہو، تم میں سے بہت سے لوگ یہ گمان کرنے لگ جائیں گے کہ اب بھی جان اور مال کی قربانی کے معنے روپیہ پر ایک آنہ چندہ دینا یا ڈیڑھ آنہ چندہ دینا ہے