خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 198

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۸ ت ۱۹۴۶ء کہا جاتا ہے شریعت میں وہ اپنی خصوصیت کے لحاظ سے تقویٰ کہلاتی ہے جب دُنیاوی معاملات میں وہ چیز جاتی رہے جسے عقل عامہ کہتے ہیں یا شرعی امور میں انسان تقویٰ کے دائرہ سے نکل جائے تو کوئی قانون اُسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔پس انسان کو ہمیشہ اپنے کاموں کی بنیاد تقویٰ پر رکھنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیئے کہ وہ اسے صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز میں جو ہم کو لاھدنا الصراط الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھلائی گئی ہے اس کے جہاں مختلف مواقع پر مختلف معانی ہوتے ہیں وہاں اس کے ایک مستقل معنے بھی ہیں۔ایک غیر مسلم کے لئے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا مجھے سچا مذہب دکھاوے اور ایک مسلمان کے لئے جبکہ اسلام بگڑ چکا ہے اهْدِنَا الصّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اسلام کو دوبارہ دُنیا میں قائم کر دے۔گویا دعا کا ایک مفہوم صرف اُن لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو مسلمان نہیں اور دوسرا مفہوم ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو مسلمانوں کے گھر میں اُس وقت پیدا ہوں جب اسلام میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہو چکا ہو اور مسلمانوں میں روحانیت سے دُوری واقع ہو چکی ہو۔مگر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے ایک اور معنے بھی ہیں جو ہمیشہ قائم رہتے ہیں اور ہر حالت میں ہر انسان کے کام آ سکتے ہیں اور وہ معنے یہ ہیں کہ خدا ہمیں اپنے کاموں میں تقویٰ سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ہم لفظی موشگافیوں اور خیالات اور اوہام یا ذاتی رنجشوں اور فسادات اور جھگڑوں کے پیچھے چل کر جماعت کے اندر فساد پیدا کرنے والے نہ ہوں، گھروں کے اندر فساد پیدا کرنے والے نہ ہوں، قبائل کے اندر فساد پیدا کرنے والے نہ ہوں، نظام کے اندر فساد پیدا کرنے والے نہ ہوں اور یہ خطرہ ایسا ہے جس میں انسان ہر وقت گھرا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ پانچ نمازوں میں اور پھر ہر نماز کی ہر رکعت میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھلائی گئی ہے۔چونکہ رات اور دن انسان نے ایسے کام کرنے تھے جو تقویٰ سے خالی ہونے کی وجہ سے لوگوں کے لئے تباہی کا باعث بن سکتے تھے اور چونکہ بعض دفعہ ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی انسان کو کہیں کا کہیں لے جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نماز میں اور نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا مانگنے کی ہدایت کی گئی کہ انھدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ -