خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 199

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۹ رت ۱۹۴۶ء بغداد کی تباہی کا سبب پرانے زمانہ کا ایک واقعہ مشہور ہے جس پر حضرت خلیفہ اول بڑا زور دیا کرتے تھے اور بار بار اس واقعہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔میں تو سمجھتا ہوں شاید وہ کہانی ہی ہو مگر کہانیاں بھی بہت بڑے نکات کی طرف انسانی دماغ کو متوجہ کر دیا کرتی ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ بغداد کی تباہی کا موجب ایک بہت ہی چھوٹی سی بات تھی۔ایک دفعہ دو بدمعاش بازار میں سے گزرے تو اُنہوں نے دیکھا کہ ایک دوکان پر کباب بک رہے ہیں۔ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ کباب کھانے کو بہت دل چاہتا ہے مگر جیب میں کوئی پیسہ نہیں کوئی ایسی ترکیب نکالیں جس سے مفت کباب کھا سکیں۔دوسرے نے کہا اس میں کون سی مشکل بات ہے آؤ ہم آپس میں لڑ پڑیں۔میں تمہیں مارنے لگ جاتا ہوں تم مجھے مارنے لگ جاؤ۔شورسن کر لوگ اکٹھے ہو جائیں گے کچھ میری طرف مائل ہو جائیں گے اور کچھ تمہاری طرف۔جب اس طرح بہت سے لوگ آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں گے تو ہم چپکے سے کھسک کر کباب والے کی دکان پر چلے جائیں گے اور کباب کھا لیں گے۔چنانچہ اس تجویز کے مطابق اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ایک شیعہ بن جائے اور دوسراستی اور آپس میں لڑ پڑیں۔اس سکیم کے مطابق وہ کباب والے کی دکان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اُنہوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔ایک نے دوسرے کا گلا پکڑ لیا کہ تم ابو بکر اور عمر کے متعلق یہ بات کرتے ہو۔دوسرے نے کہا ہیں! تم پنج تن کے متعلق ایسی بات کہتے ہو۔جب دونوں آپس میں لڑنے لگے تو کچھ ستی آئے جنہوں نے سنی کی تائید شروع کر دی، کچھ شیعہ آگئے جنہوں نے شیعہ کی تائید شروع کر دی اور آپس میں گالی گلوچ ہونے لگی۔گالی گلوچ سے بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک کو بت پہنچی۔کباب والے نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ بھی دوڑتا ہوا آیا اور اس لڑائی میں شامل ہو گیا۔جب اُنہوں نے دیکھا کہ کباب کی دکان خالی ہے تو وہ دونوں وہاں سے کھسکے اور انہوں نے آکر کباب کھانے شروع کر دیئے۔باقی لوگ تو پنج تن اور خلفاء کے لئے لڑتے رہے اور یہ ادھر کباب اُڑاتے رہے۔اسی دوران میں ایک آدمی قتل ہو گیا اور اتفاق ایسا ہوا کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا وہ سنی تھا۔بغداد میں سُنیوں کا زور تھا۔جب انہیں معلوم ہوا کہ ہمارا ایک سنی بھائی شیعوں نے مار ڈالا ہے تو انہوں نے شیعوں کو مارنا شروع کر دیا۔