خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 181

خطابات شوری جلد سوم ۱۸۱ رت ۱۹۴۶ء میں کم از کم ایک احمدی ضرور بنائے۔یہ مطالبہ ہم نے اس لئے کیا ہے تا جماعت بحیثیت مجموعی تبلیغ کی طرف متوجہ ہو اور اپنے فرض کا احساس کرے۔ورنہ اس کے یہ معنے ہر گز نہیں کہ آپ لوگوں سے جبراً بیعت کرائیں۔میں سمجھتا ہوں اگر سنجیدگی سے کوشش کی جائے تو سال بھر میں ایک احمدی بنانا کوئی مشکل بات نہیں۔لیکن میرے اس خطبہ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تک آٹھ سو جماعتوں میں سے صرف ۷۸ جماعتوں نے وعدے بھجوائے ہیں باقی سب جماعتوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔اور ان ۷۸ جماعتوں کی طرف سے بھی ۱۱۹۲۔افراد نے صرف ۱۴۰۰ آدمیوں کو احمدی بنانے کے وعدے کئے ہیں۔غرض جماعت نے اس معاملہ میں اس قدرستی سے کام لیا ہے کہ اس سے قبل اتنی شستی اس نے کسی معاملہ میں نہیں دکھائی۔پس میں جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور جلد سے جلد اپنے وعدے بھجوانے چاہئیں۔ہماری جماعت ہندوستان میں چار پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ابھی جو الیکشن ہوا ہے اس نے یقینی طور بتا دیا ہے کہ ہماری تعداد ہندوستان میں چار پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ہماری جماعت کے ووٹر چالیس اور پچاس ہزار کے درمیان تھے اور چونکہ عام طور پر آبادی کا دس فی صدی حصہ ووٹر ہوتا ہے اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان میں چار پانچ لاکھ کے قریب ہماری جماعت کے افراد ہیں۔تین لاکھ کے قریب تو پنجاب میں ہی ہیں۔اس کے علاوہ سندھ، سرحد میں، بہار میں، بنگال میں اور دوسرے صوبوں میں کسی جگہ دس ہزار، کسی جگہ پندرہ ہزار، کسی جگہ میں ہزار، اڑیسہ کے متعلق میرا خیال تھا کہ وہاں بہت کم احمدی ہیں لیکن بعض دوستوں نے بتایا ہے کہ وہاں بھی چار ہزار کے قریب احمدی ہیں ، حالانکہ اڑیسہ بہت چھوٹا سا صوبہ ہے۔چونکہ ہماری جماعت میں باقی جماعتوں کی نسبت تعلیم زیادہ ہے اس لئے ہم اس اندازے کو اگر کسی قدر کم کر دیں یعنی پانچ لاکھ کی بجائے چار لاکھ سمجھ لیں اور پھر اس چار لاکھ کا آدھا کریں تو دولاکھ ہوئے کیونکہ کچھ لوگ سُست اور غافل بھی ہوتے ہیں۔اور اس دو لاکھ میں سے اگر فی خاندان پانچ آدمی سمجھے جائیں تو چالیس ہزار ایسے مرد ہوں گے جو اچھی طرح تبلیغ کر سکتے ہیں اور اگر ہر سال ایک آدمی ایک ہی احمدی بنائے تو اس لحاظ سے بھی چالیس ہزار آدمی ہر سال احمدی ہونا