خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 171
خطابات شوری جلد سوم رت ۱۹۴۶ء علماء تیار کرنے کی سکیم اس کے علاوہ میں نے خاص طور پر جماعت کے لئے علماء تیار کرنے کا کام بھی شروع کیا ہوا ہے اور میری سکیم یہ ہے کہ ایک طرف تو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں طلباء کی تعداد کا اضافہ ہو اور دوسری طرف جونو جوان علماء ہمارے پاس تیار ہیں اُن کو مزید اعلیٰ تعلیم دلائی جا سکے چونکہ بعض علوم ایسے ہیں جو ہم میں اور غیر احمدیوں میں مشترک ہیں اس لئے میں نے بعض طلباء کو منطق ، فلسفہ، فقہ اور حدیث کی اعلیٰ تعلیم کے لئے باہر بھجوا دیا ہے اور کچھ طالب علم ایسے ہیں جو قادیان میں ہی دینی علوم کی تکمیل کر رہے ہیں۔جیسے قرآن کریم کا علم ہے، یا تصوف کا علم ہے۔اس طرح تین چار سال میں ہمارے پاس خدا تعالیٰ کے فضل سے سات آٹھ علماء ایسے تیار ہو جائیں گے جو تعلیم کے لحاظ سے ہندوستان میں چوٹی کے علماء سمجھے جانے کے قابل ہوں گے۔پھر میرا منشاء ہے کہ ان کو مصر اور شام بھجوا دیا جائے تا کہ ان ممالک میں رہ کر ان کو مزید علمی ترقی حاصل ہو۔جب یہ لوگ فارغ ہو جائیں گے تو ہمیں اس بات کا موقع میسر آسکے گا کہ ہم خود قادیان میں ہی زیادہ سے زیادہ ایسے علماء تیار کر سکیں۔چنانچہ آئندہ جامعہ احمدیہ میں سے جو طلباء نکلیں گے ان میں سے جو ہوشیار طالب علم ہوں گے، جو دوسروں کو تعلیم دینے کے قابل ہوں گے، جو اعلیٰ اخلاق رکھنے والے ہوں گے اور جن کی طبیعت میں بچوں کی نگرانی کا ملکہ ہو گا اُن کو ایسے لوگوں کے سپر د کر دیا جائے گا جو بیرونی ممالک سے پڑھ کر آئیں گے تاکہ وہ ان سے مزید تعلیم حاصل کریں، اس طرح ۴،۳ سال کی تعلیم کے بعد وہ بھی چوٹی کے علماء سمجھے جائیں گے۔عورتوں کی تعلیم دوسرا حصہ تعلیم نساء کا ہے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ یہاں دوستم کی تعلیم میں نے جاری کی ہوئی ہے ایک تو لڑکیوں کا ہائی سکول ہے جو دیر سے جاری ہے اور ایک لڑکیوں کے لئے دینیات کالج ہے۔انٹرنس کا امتحان دینے والی لڑکیاں اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں بہت کافی ہوتی جاتی ہیں اور ان کے نتائج بھی بہت اچھے نکلتے ہیں چنانچہ جہاں تک فیصدی کا سوال ہے لڑکیوں کے مدرسہ کے نتائج لڑکوں کے مدرسہ کے نتائج سے بہت اچھے رہتے ہیں، بلکہ اکثر سو فیصدی لڑکیاں پاس ہو جاتی ہیں۔اس کے علاوہ دینی تعلیم کے لئے مدرسہ دینیات جاری ہے جس کی پڑھائی