خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 172
خطابات شوری جلد سوم ۱۷۲ ت ۱۹۴۶ء دینیات کے لحاظ سے ایم اے تک رکھی گئی ہے۔چھ جماعتیں ایسی ہیں جن میں وہ اپنے علوم کے لحاظ سے بی۔اے تک تعلیم حاصل کرتی ہیں۔اس کے بعد اگر مزید ۲ سال وہ تعلیم حاصل کریں تو دینیات کے لحاظ سے ایم۔اے کی تعلیم حاصل کر لیں گی، اس کے بعد پھر دو جماعتیں ایسی ہیں جن میں تعلیم حاصل کر کے وہ ڈاکٹر کے مقابلہ کی ڈگری حاصل کر لیں گی ، اس آخری ڈگری کا نام فقیہہ ہو گا۔اس کلاس میں دینی علوم میں سے کسی ایک علم کو لے کر اس کی انہیں مکمل واقفیت پیدا کر دی جائے گی اور پاس ہونے پر اُنھیں جماعتی ڈگری ڈاکٹر کی دی جائے گی جس کا نام فقیہہ ہو گا۔اس سال بی اے کی متوازی کلاس جس کا نام علیہ ہے امتحان دینے والی ہے جو ماہ جون میں ہو گا۔میں نے تجویز کیا ہے کہ لڑکیوں کے لئے بھی وظائف مقرر کئے جائیں تا کہ ان میں تعلیم کا شوق پیدا ہو اور وہ دلی رغبت اور جوش کے ساتھ اس میں حصہ ے سکیں۔جہاں تک میرا خیال ہے لڑکیوں کے وظائف کے متعلق بجٹ میں گنجائش نہیں رکھی گئی۔میں اس موقع پر بجٹ کمیٹی کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس کام کے لئے بھی اسے کچھ رقم بجٹ میں رکھنی چاہئے تاکہ لڑکیوں کو وظائف دیئے جاسکیں۔مغربی افریقہ کیلئے تعلیمی سکیم ہندوستان سے باہر سر دست مغربی افریقہ میں ہمارے سکول ہیں اور گو وہ سکول صرف پرائمری یا مڈل تک ہیں مگر بہر حال کثرت سے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ مغربی افریقہ میں ۱۵، ۱۶، یا ۲۰ کے قریب ہمارے سکول ہوں گے جو متفرق مقامات پر قائم ہیں۔اب ہم نے یہ تجویز کی ہے کہ چونکہ مغربی افریقہ میں تمام اعلیٰ تعلیم عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے اور اس وجہ سے عیسائیوں کو تو نوکری مل جاتی ہے مگر مسلمان اس میدان میں بہت پیچھے ہیں اس لئے مغربی افریقہ میں ایک لنڈن میٹرک سکول قائم کر دیا جائے اِس سکول کے قائم ہونے کے بعد جولڑ کے اس میں تعلیم حاصل کریں گے وہ آئندہ ڈاکٹری اور بیرسٹری کا بھی امتحان دے سکیں گے اور ملازمتوں کے حصول میں آجکل جو دتھیں درپیش ہیں ان کا بھی سد باب ہو جائے گا۔لنڈن میٹرک، ہندوستانی یو نیورسٹیوں کے بی اے کے برابر لینا چاہئے کیونکہ لنڈن میٹرک میڈیکل کالج