خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 170
خطابات شوری جلد سوم ۱۷۰ ت ۱۹۴۶ء پس جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس چندہ میں جو ثواب حاصل کرنے کا ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیں اور کوشش کریں کہ ان کے روپیہ کے ذریعہ سلسلہ کو عالم مبلغ مہیا ہو جائیں۔میں اس موقع پر صدرا انجمن احمدیہ کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور بجٹ کمیٹی کو بھی کہ وہ کم سے کم پانچ ہزار روپیہ سالانہ اس مد کے لئے مقرر کر دے تا کہ اصل ذمہ داری جو صدر انجمن احمدیہ پر اس بارہ میں عائد ہوتی ہے اس سے وہ عہدہ برآ ہو سکے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تک جو روپیہ آ رہا ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے ۲۵ وظیفوں کی آسانی سے گنجائش نکل سکتی ہے لیکن اگر دوسرے دوست بھی جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے اس میں حصہ لینے کی کوشش کریں تو یہ وظائف کی رقم اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ موجودہ تعداد سے دو تین گنا زیادہ لڑکوں کو وظائف دیئے جاسکتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں پانچ سو سے زیادہ تنخواہ لینے والے تین چار سو بلکہ اس سے بھی زیادہ لوگ ہوں گے۔اگر ان میں سے ہر شخص کم سے کم ۵ روپے ماہوار وظیفہ دے تو پا ۲ ہزار روپیہ ماہوار آمد ہو سکتی ہے دوسرے الفاظ میں ہم ایک سو لڑکوں کو آسانی سے وظیفہ دے سکتے ہیں اور اس کا ہم پر کوئی خاص بوجھ بھی نہیں پڑتا۔خدا تعالیٰ نے مومن کو خرچ کم کرنے کی بھی بڑی توفیق عطا فرمائی ہے اور اس نے مومن کو اپنی آمد بڑھانے کے لئے بھی بڑی عقل بخشی ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی آمد بڑھانے کے لئے عقل عطا فرمائی ہے تو اس نے ہمیں اپنے اخراجات کو کم کرنے کے حوصلے بھی بخشے ہیں۔پس یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا برداشت کرنا ہماری جماعت کے لئے مشکل ہو۔بے شک ایک کم حوصلہ انسان کے لئے یہ مشکل بات ہے مگر مومن کے لئے نہیں۔پس اس خرچ کو ضرور رکھنا چاہئے اور جیسا کہ میں نے ہدایت دی ہے انجمن کو چاہئے کہ وہ اس غرض کے لئے ۵ ہزار روپیہ سالانہ کی اپنے بجٹ میں گنجائش رکھے۔پانچ ہزار روپیہ سالانہ میں دے رہا ہوں اور چار ہزار کے قریب روپیہ دوسرے دوستوں کی طرف سے آ رہا ہے۔ان کو چاہئے کہ وہ آئندہ بھی اِس سلسلہ کو جاری رکھیں اور جنہوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا وہ اس میں حصہ لینے کی کوشش کریں تا مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمد یہ دونوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔