خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 168

خطابات شوری جلد سوم ۱۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۶ء نے بتایا ہے کہ ہماری آمد میں ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ کا اضافہ ہوا ہے مگر چونکہ جنگ کے ختم ہو جانے کی وجہ سے اب آمد کم ہو جانے کا خطرہ ہے اور وہ ہزاروں آدمی جو فوج میں ملازم تھے اور جن کو سو سو روپیہ ماہوار ملتا تھا اب تھا اب وہاں سے فار فارغ ہونے والے ہیں اور بعض تو ایسی صورت میں فارغ ہوں گے کہ اپنے ماں باپ پر بوجھ بن جائیں گے۔ اس لئے ہمیں خطرہ ہے کہ آئندہ ہم اپنی آمد کے معیار کو پوری طرح نہ قائم رکھ سکیں گے سوائے اس کے کہ تبلیغ پر زور دیا جائے اور نئے لوگ جماعت میں شامل کئے جائیں ۔ یا وہ جو چندہ نہیں دیتے اُنھیں تحریک کی جائے کہ وہ بھی چندہ دیں اس کے علاوہ ہمارے پاس آمد بڑھانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ اگر ان ذرائع سے کام لے کر ہماری آمد میں اضافہ ہو جائے اور ہم ۶۲ ۶۳ ہزار آمد پیدا کر لیں تو دوسری طرف ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ صدر انجمن احمد یہ کے مختلف صیغہ جات کی طرف سے ۷۴ ہزار روپیہ کا مختلف اخراجات کے لئے مطالبہ کیا جا رہا ہے اس طرح ایک لاکھ ۸۰ ہزار جو ریز روفنڈ میں رکھا جانے والا تھا اس میں ۷۴ ہزار روپیہ کی کمی ہو جائے گی اور ایک لاکھ 4 ہزار روپیہ رہ جائے گا ۔ اور چونکہ بجٹ میں بعض اور بھی زیادتیاں ہیں اگر ان کو بھی مد نظر رکھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم ایک لاکھ تین ہزار روپیہ یا اس کے قریب قریب جمع کر سکیں گے اور یہ کوئی اچھی رفتار نہیں ۔ عام طور پر قاعدہ ہے کہ صدر انجمن احمد یہ بعض دفعہ دوران سال ایک لاکھ تک کی زیادتیوں کا مطالبہ کر دیتی ہے اگر اگلے سال بھی ایسا ہی کیا گیا گو میں نے منع کیا ہے کہ ایسا نہ کیا جائے تو نہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہمیں فائدہ ہونے کی بجائے ۲۵، ۳۰ ہزار روپیہ کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا پس بجٹ پر بہت زیادہ غور اور فکر کی ضرورت ہے اگر سلسلہ کی آمد کو نہیں بڑھایا جا سکتا تو اخراجات کم کرنے چاہئیں ۔ وظائف برائے طلباء جامعہ میں اس موقع پر ایک دفعہ پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جن دوستوں نے وظائف میں حصہ لیا ہے، ان کو چاہئے کہ صدقہ جاریہ کے اصول پر وہ اپنی رقم کو قائم رکھیں اور نہ صرف خود اس میں حصہ لیتے رہیں بلکہ دوسرے دوستوں کو بھی جو صاحب توفیق ہوں تحریک کریں کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ اور اگر کوئی اکیلا شخص یہ بوجھ برداشت نہ کر سکتا ہو تو دو دو، چار چار