خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 169
خطابات شوری جلد سوم ۱۶۹ رت ۱۹۴۶ء مل کر ایک طالب علم کا بوجھ برداشت کرنے کی کوشش کریں تا کہ سالانہ ۲۵-۳۰ لڑ کے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے شروع ہو جائیں اور آخر میں ۲۵ - ۳۰ مبلغ سالا سالانہ جماعت احمدیہ کو ملنے لگ جائیں۔گو جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ تعداد بھی ہماری ضروریات کے لئے کافی نہیں۔اگر جامعہ احمدیہ کے ذریعہ سو مبلغ بھی سالانہ تیار ہو تو دس سال میں ایک ہزار مبلغ تیار ہوسکتا ہے۔اور چونکہ آٹھ سال تک ہمیں تعلیم دلانی پڑے گی اس لئے اگر آج سولڑ کا مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو اور پھر ہر سال سولڑ کے متواتر اس میں داخل ہوتے رہیں۔تب ۱۸ سال کے بعد ہمیں ایک ہزار مبلغ مل سکتے ہیں اور ساری دُنیا کو اخلاقی اور روحانی لحاظ سے فتح کرنے کا ارادہ رکھنے والی قوم کے لئے ۱۸ سال کے بعد ایک ہزار مبلغ کا ملنا حقیقی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا۔مگر ہر چیز کو قدم بقدم ہی چلانا پڑتا ہے۔في انحال اگر ہمیں ۳۰،۲۵ یا ۳۳ مبلغ ہی جامعہ احمدیہ کے ذریعہ سالانہ ملنے شروع ہو جائیں تو ہم اسی کو غنیمت ا سمجھیں گے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ جامعہ احمدیہ کے درجہ رابعہ میں ایک بھی طالب علم نہیں۔درجہ ثالثہ میں چار طالب علم ہیں، درجہ ثانیہ میں چھ طالب علم ہیں اور درجہ اولیٰ میں آٹھ طالب علم ہیں گویا جوں جوں نیچے اُترتے جائیں نمبر زیادہ ہوتا جاتا ہے اور جوں جوں اوپر جائیں نمبر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں گزشتہ سال میری تحریک پر بہت سے دوستوں نے اپنے لڑکوں کو داخل کیا تھا۔جن کی تعداد ۳۱ ۳۲ تک پہنچ گئی تھی۔سالانہ امتحان میں ان میں سے ۳۰ لڑکے خدا تعالیٰ کے فضل سے پاس ہو گئے ہیں۔اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو آٹھ سال کے بعد ۳۲،۳۰ علماء سالا نہ ہماری جماعت کو ملنے شروع ہو جائیں گے مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کافی تعداد میں لڑکوں کے لئے وظائف مقرر ہوں اور جولوگ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے سے معذور ہوں وہ اس وظیفہ سے ان کی تعلیمی ترقی کا انتظام کر سکتے ہوں۔یہ لازمی بات ہے کہ اگر مدرسہ احمدیہ میں اپنے لڑ کے داخل کرانے والے زیادہ تر غرباء ہوں گے تو وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکیں گے۔ان کے لئے یہی صورت ہوگی کہ جماعت کے دوست وظائف دیں اور وہ تعلیم حاصل کریں۔