خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 160
خطابات شوری جلد سوم رت ۱۹۴۶ء ہمیں دیکھنا چاہئے کہ گزشتہ ۲۷ مہینوں میں ہم نے دُنیا میں کیا روحانی تغیر پیدا کیا ہے اور ہمیں غور کرنا چاہئے کہ گزشتہ ۲۷ مہینوں میں ہم نے آئندہ تغیرات کے لئے کس قسم کی بنیاد رکھ دی ہے۔بڑے کاموں کے نتیجے کبھی فوراً نہیں نکلتے بلکہ جتنی بڑی کوئی چیز ہوتی ہے اُتنے ہی اُس کے حمل کے ایام بھی بڑے ہوتے ہیں اور جتنا درخت بڑا ہوتا ہے اُتنا ہی اُس کے پھل لانے کے اوقات بھی زیادہ سے زیادہ بعید ہوتے چلے جاتے ہیں پس جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ تو اُمید نہیں کر سکتے کہ تھیلی پر سرسوں جمانے میں ہم کامیاب ہو جائیں مگر اُس کے کچھ نہ کچھ آثار ضرور ظاہر ہونے چاہئیں تا کہ ہم بھی اور ہر غیر متعصب شخص بھی یہ سمجھ سکے کہ اب یہ لوگ کچھ کر کے رہیں گے۔ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا ہمارے کاموں میں اس قسم کی سنجیدگی اور خلوص اور حوصلہ مندی اور دلیری پیدا ہوگئی ہے کہ ہمارے دل بھی اس بات پر مطمئن ہوں کہ ہم خدا کے سامنے سرخرو ہو جائیں گے اور دوسرے لوگ بھی یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جائیں کہ اب یہ جماعت کسی قریب منزل پر نہیں ٹھہرے گی بلکہ اس کی منزل بہت دور ہے اور اس کا قدم بہت تیز ہے۔دو سالہ ترقی کا جائزہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان دوسالوں میں ہمارے کاموں میں پہلے کی نسبت بہت کچھ تیزی پیدا ہوگئی ہے۔ان دوسالوں میں ہی ہم نے کالج قائم کیا اور ان دو سالوں میں ہی ہم نے جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ میں ترقی کے آثار پیدا کئے۔انہی دو سالوں کے اندر ہمارے تبلیغی مشن بیرونجات میں پھیلے اور دیہات کی تبلیغ کا انتظام بھی انہی دو سالوں میں ہوا۔غرض بہت سے ایسے کام ہم نے جاری کئے ہیں جو آئندہ زمانہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرنے ممکن ثابت کر رہے ہیں لیکن پھر سوال یہ ہے کہ ہم نے ساری دُنیا میں اسلام کو پھیلانا ہے ، ہم لوگ کسی سوسائٹی کے ممبر نہیں بلکہ ایک مذہب کے پیرو ہیں۔اس زمانہ میں جبکہ دہریت اور اباحت بہت پھیل چکی ہے عام طور پر مذاہب کے پابند بھی اپنے آپ کو ایک سوسائٹی کا ممبر سمجھتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ وہ کسی سوسائٹی کے ممبر نہیں بلکہ ایک مذہب کے پیرو ہیں۔سوسائٹی کا ایک محدود مقصد ہوتا ہے اور وہ اپنے لئے کام تجویز کرتے وقت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اُس نے صرف فلاں کام کرنا ہے لیکن مذہب کا مقصد محدود نہیں ہوتا۔