خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 159

خطابات شوری جلد سوم ۱۵۹ ت ۱۹۴۶ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۴۶ء ( منعقده ۱۹ تا ۲۱ را پریل ۱۹۴۶ء) پہلا دن افتتاحی تقریر جماعت احمدیہ کی چھبیسویں مجلس مشاورت مؤرخہ ۱۹ تا ۲۱ اپریل ۱۹۴۶ء کو قادیان میں منعقد ہوئی۔اس کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی جس میں آپ نے پیشگوئی مصلح موعود کے پس منظر میں جماعت پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی طرف احباب جماعت کو نہایت مؤثر رنگ میں توجہ دلائی۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- ۱۹۴۴ء کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی کہ اُس پیشگوئی کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کے غلبہ اور اُس کے احیاء کے متعلق کی گئی تھی اور جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نائب مقرر کیا گیا تھا جو لوگوں کی اصلاح کے لئے آنے والا تھا اور جس کا اپنوں اور بیگانوں میں ایک لمبے عرصہ تک انتظار کیا جاتا رہا وہ میں ہی ہوں اور مجھے خدا نے بتایا تھا کہ یہ پیشگوئی اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ میرے ہی وجود میں پوری کی گئی ہے۔ے جنوری ۱۹۴۴ء کو یہ انکشاف مجھ پر ہوا تھا اور اب دو سال تین ماہ کی مدت میرے دعوی مصلح موعود کے اعلان پر گزر چکی ہے۔دوسال اور تین مہینے کی مدت کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بچہ کی پیدائش اور اُس کے دودھ چھڑانے کی مدت تمیں مہینے ہے اس لحاظ سے ۲۷ بلکہ ۲۸ مہینے اس وقت تک اس واقعہ پر گزر چکے ہیں۔