خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 156
خطابات شوری جلد سوم ۱۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء 66 جس میں ایسے جلسے ہوتے رہیں۔یا شیڈ کے طور پر ایسی جگہ بنا ئیں جس میں کم از کم ایک لاکھ آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہو۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے لئے دعا فرمائی ہے کہ اک سے ہزار ہوویں اور نبی کی اولاد اس کی جماعت بھی ہوتی ہے، اس لئے ۱۰۰ کو ہزار سے ضرب دیں تو ایک لاکھ بنتا ہے ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنانی چاہئے۔گو ہم جانتے ہیں کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد آنے والے کہیں گے کہ یہ بے وقوفی کی گئی۔کم از کم دس لاکھ کے لئے تو جگہ بنانی چاہئے تھی۔پھر اور آئیں گے جو کہیں گے یہ کیا بنا دیا، کروڑ کے لئے جگہ بنانی چاہئے تھی۔اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ پانچ سال میں دو لاکھ روپیہ ہم اس غرض کے لئے جمع کریں۔پانچ سال کا عرصہ اس لئے میں نے رکھا ہے کہ اُس وقت تک جنگ کی وجہ سے جو گرانی ہے وہ دُور ہو جائے گی اور ہم ایسی عمارت بناسکیں گے۔اس لئے فی الحال میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ آئندہ پانچ سال میں اس بات کو مدنظر رکھ کر دو لاکھ روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے جمع کریں۔میں اس تجویز کو بھی منظور کرتا ہوں کہ بجٹ میں یہ رقم رکھنے اور مجلس شوریٰ میں پیش کرنے کی بجائے انفرادی طور پر جماعت سے لے لی جائے۔دو ہزار روپیہ جو چوہدری اسد اللہ خاں صاحب نے دیا ہے اسی دو لاکھ کی رقم میں داخل کرتا ہوں۔یہ رقم اعلان کر کے طوعی چندہ سے پوری کر لی جائے گی۔سیٹھ اسماعیل آدم صاحب کہتے ہیں۔میرا ایک خواب ہے وہ سنانا چاہتا ہوں۔وہ کھڑے ہو کر خواب سنا دیں۔“ اس پر حضرت سیٹھ صاحب نے حسب ذیل خواب سنایا: - اللہ تعالیٰ کی شان ہے جب وہ کسی اپنے برگزیدہ بندے کو بھیجتا ہے تو جو لوگ اُسے پہلے مانتے ہیں، اُن کو اُس کی صداقت کے نشانات بنا دیتا ہے۔۱۹۰۰ء میں جب میں یہاں آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ الہامیہ سنایا تو اُس کے بعد میں پھر بمبئی چلا گیا۔وہاں میں نے تہجد کی نماز کے وقت رؤیا دیکھا کہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام ایک بہت بڑے ہال میں لیکچر دے رہے ہیں۔بمبئی میں بڑے سے بڑا ہال دس ہزار آدمیوں کے بیٹھنے کا ہے مگر وہ اتنا بڑا ہال ہے کہ ایک لاکھ آدمی اُس میں آسکتے ہیں۔مجھے اُس کے دروازہ