خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 157

خطابات شوری جلد سوم ۱۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء پر کھڑا کیا گیا اور کہا گیا کہ جو لوگ آئیں تم انہیں ریسیو(Receive) کرو اور اندر بھیجتے جاؤ۔خدا تعالیٰ نے قریباً پچاس سال قبل یہ خوشخبری جو مجھے سنائی۔اُسے پورا ہوتا آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ، اس کی شہادت دیتا ہوں۔“ اس وقت تک حضور کے آگے میز پر وعدوں کی تحریروں اور نقد رقوم بہت سی جمع ہو چکی تھیں۔ان کے متعلق فرمایا :- یہ رقعے اور روپے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری والے اُٹھا لیں۔میں اس بارہ میں بری ہوتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے حضور دفتر والے جواب دہ ہوں گے۔“ یہ فرمانے پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور جلسہ ختم ہی کرنے والے ہیں اور حضور نے رقوم پیش کرنے والوں کے نام سنانے کا ارشاد فرمایا اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ اس فنڈ میں دینے کا ارشاد فرمایا۔ابھی چند ہی نام سنائے گئے تھے کہ اس کثرت سے احباب نے اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے کہ حضور نے فرمایا: - احباب باری باری بولیں تا ان کے نام لکھے جاسکیں اب تو اتنا شور ہے کہ لکھنا مشکل ہورہا ہے۔“ حضور نے کئی اور اصحاب کو نام لکھنے پر مقرر کر دیا۔کچھ ہی دیر بعد حضور نے فرمایا : - میں اپنی طرف سے، اپنے خاندان کی طرف سے نیز چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور ان کے دوستوں اور سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کے خاندان اور جماعت احمدیہ کی طرف سے اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ بیرونی جماعتوں کو اس فنڈ میں شریک ہونے کا موقع دینے کے بعد دو لاکھ میں جو کمی رہے گی وہ ہم پوری کر دیں گے۔“ لیکن ساری فہرست تیار ہونے کے بعد جب رقوم کی میزان کی گئی تو حضور نے اعلان 66 فرمایا کہ : - اس جلسہ میں شریک ہونے والوں نے اپنی طرف سے یا اپنے غیر حاضر دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے جو چندے پیش کئے ہیں، اُن کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔ممکن ہے جلدی میں ان رقوم کی میزان کرنے میں کچھ غلطی ہوگئی ہو لیکن اس وقت جس قدر چندہ ہو چکا ہے وہ دو لاکھ بائیس ہزار سات سو چونسٹھ روپے شمار کیا گیا ہے۔“