خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 155
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ایک تو وہ وقت تھا اور ایک آج ہے کہ مسجد مبارک کی توسیع کے لئے عصر کی نماز کے وقت میں نے مقتدیوں سے ذکر کیا اور عشاء کی نماز سے پہلے پہلے ۱۸ ہزار کے وعدے اور رقوم جمع ہو گئیں اور بیرونی احباب کو اس چندہ میں شریک ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔یہ نشان بھی نا بینا کو نظر نہ آئے مگر ہر بینا کو نظر آ رہا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو بڑھا رہا اور سامان پیدا کرتا جا رہا ہے کہ اُس وقت جو بات بڑی معلوم ہوتی تھی آج بہت ہی معمولی اور حقیر سی نظر آتی ہے اور آج جو چیز بہت بڑی معلوم ہوتی ہے وہ کل حقیر ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہی سلوک ہماری جماعت سے برابر چلا جا رہا ہے اور اس بات کا خیال کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح دل بھر آتا اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ کاش! جماعت کی یہ ترقی حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوتی تا آپ بھی اس دنیا میں اپنے کام کے خوش گن نتائج دیکھ لیتے “ یہ فرماتے فرماتے حضور پر بے حد رقت طاری ہو گئی۔تھوڑی دیر توقف کے بعد فرمایا: اس تجویز کا اصل مقصد کا نفرنس منعقد کرنا ہے جس میں ہر مذہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔سب کمیٹی نے اس کے لئے دو ہزار روپے تجویز کئے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ جو دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں نام لکھا دیں۔“ حضور کے اس ارشاد کے مطابق چند احباب نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔اسی دوران میں مخلصین جماعت جماعت نے مجوزہ ہال کے لئے حضور کی خدمت میں چندہ پیش کرنا شروع کر دیا۔اس پر حضور نے فرمایا:- دوستوں نے چندہ دینا شروع کر دیا ہے اور اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔مجھ پر جو اس وقت وجد کی حالت طاری ہوئی اور میں سجدہ میں گر گیا اِس کی وجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے حالات اور بعد کے حالات کا فرق ہے۔اس وقت دو ہزار روپیہ کا جو سوال ہے وہ تو ایک دوست نے پورا کر دیا ہے اور وہ کیا اس سے بہت زیادہ چندہ ہو سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس تجویز کے پیچھے جذبہ کیا کارفرما ہے۔یہی کہ باہر سے کتنے آدمی آسکیں گے۔چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اب ہمیں چھپیں ہزار احمدی ہی جلسہ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں ان حالات میں چاہئے کہ ہم ایک ایسا ہال بنا ئیں۔