خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 141

خطابات شوری جلد سوم ۱۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء بعض لوگوں کے خلاف اس قسم کے کیس پیدا ہو جاتے ہیں کہ اُنہوں نے غبن کیا یا بددیانتی کی یا غلطی کی اس کی وجہ یہی ہے کہ افسر اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے۔اگر سال میں چار دفعہ ہر صیغے کا معائنہ ہو جائے تو پھر کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔حقیقت یہی ہے کہ آج تک جو بھی آڈیٹر آیا ہے اُس نے حسابات کو آؤٹ نہیں کیا۔بلکہ اُس نے اپنا کام صرف اتنا ہی سمجھا ہے کہ بل دیکھے اور اُن کی پڑتال کر کے خزانہ میں بھجوا دیے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دفاتر کے لئے جس قسم کے آڈٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے زیادہ عملہ کا ہونا ضروری ہے مگر ہمارے ہاں آڈیٹر صرف ایک آدمی ہی رکھا جاتا ہے اور اُس کے پاس اتنا کام ہوتا ہے کہ وہ بمشکل تمام دفاتر کے پلوں کو ہی چیک کر سکتا ہے۔اُس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ دفاتر میں جائے اور حسابات کا معائنہ کرے۔پس میں کثرت رائے کی تائید کرتا ہوا اس تجویز کو رڈ کرتا ہوں۔“ اس کے بعد جناب ناظر صاحب بیت المال نے دارالتبلیغ لاہور۔پشاور۔دہلی۔کراچی اور مدراس کے اخراجات برائے منظوری پیش کئے۔حضور نے فرمایا۔جو دوست اس بارہ میں کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ اپنے نام لکھوا دیں مگر تمہیدی طور پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تجویز پرانی ہے لیکن اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ابھی ہمارے پاس سامانوں کی بہت قلت ہے۔مثلاً بمبئی میں ایک انگریزی دان مبلغ کی ضرورت تھی مگر ہمارے پاس کوئی ایسا مبلغ نہیں تھا آخر ہم نے نیر صاحب کو جو ریٹائر ہو چکے ہیں یا شاید ہونے والے ہیں وہاں بھجوا دیا۔وہ وہاں اور چھ ماہ یا سال تک کام کر سکتے ہیں اس کے بعد اُن میں کام کرنے کی طاقت نہیں رہے گی۔اب اُن کی عمر پینسٹھ سال کے قریب ہے اور اس عمر میں انسان اُس رنگ میں تبلیغ نہیں کر سکتا جس رنگ میں جوانی کے دنوں میں تبلیغ کر سکتا ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک دن کسی جگہ لیکچر دے دیں یا جو دوست ملنے کے لئے آئیں اُن سے تبلیغی گفتگو کر لیں مگر یہ کہ وہ لوگوں کے گھروں تک پہنچیں اور اُن کو تبلیغ کریں یہ کام اب اس عمر میں اُن سے نہیں ہوسکتا اور ہم جس قسم کے کام کا لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں وہ کام اس عمر میں ہو بھی نہیں سکتا مگر ہمارے پاس کوئی اور ایسا انگریزی دان اس وقت تیار نہیں ہے جسے بمبئی میں بھجوایا جا سکے۔لاہور میں ہم ایسا مبلغ رکھ سکتے ہیں جو مولوی فاضل ہو،