خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 140

خطابات شوری جلد سوم ۱۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء۔دستخط کرے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے ہاں یہ حالت ہے کہ محاسب سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ بے شک ایسا لکھا ہے مگر ہر لکھی ہوئی بات پر کون عمل کرتا ہے؟ اگر یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو کیا اس کے بعد کوئی بھی قانون چل سکتا ہے اور کیا کسی محکمہ میں بھی امن رہ سکتا ہے؟ آڈیٹر اور محاسب دونوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔حسابات کا باقاعدہ معائنہ کریں، آمد اور خرچ کے رجسٹروں کو غور سے دیکھیں۔اُن کی میزان پر نظر ڈالیں، خزانہ میں جو کچھ موجود ہوا سے دیکھیں۔جہاں جہاں خرچ ہو ا ہو اُس کو مدنظر رکھیں اور ایک پائی کی کمی کو بھی برداشت نہ کریں۔اُن کا فرض ہے کہ جب کسی جگہ انہیں کوئی نقص معلوم ہو وہ اُس جگہ سے اُس وقت تک ہلیں نہیں جب تک اُس نقص کو دُور نہ کر لیں۔یا جس نے نقص پیدا کیا ہے اُس کی رپورٹ افسرانِ بالا کے پاس نہ کر لیں مگر ہمارے آڈیٹر جس رنگ میں کام کرتے ہیں، اُس کا اِس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ میں نے ایک دفعہ گورنمنٹ پنشنر آڈیٹر کو زمیندارہ کے حساب چیکنگ کے لئے سندھ اپنی زمینوں پر بھجوایا۔وہ معائنہ کے بعد ہنستے ہوئے میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے لیجئے صاحب مبارک ہو، دس ہزار روپیہ نفع ہے۔میں نے کہا دس ہزار روپیہ نفع نہیں یہ تو ہیں ہزار گھاٹا ہے کیونکہ ان زمینوں پر قرض کا اس اس قدر بار ہے جو ابھی قابل ادا ہے۔وہ کہنے لگے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون کون سا قرض قابل ادا ہے یا زمین پر کتنا بار ہے۔ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ اتنی چیز فروخت ہوئی اور اس کے بدلہ میں اتنا روپیہ آ گیا۔میں نے کہا آپ کو یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ اس کے بعد کون کون سی رقوم قابل ادا رہتی ہیں تا کہ صحیح طور پر نفع نقصان کا اندازہ ہو سکے وہ کہنے لگے یہ ہماری آڈٹ کے اصول کے خلاف ہے۔میں نے کہا تو پھر آپ جائیے، اس قسم کے آڈیٹروں کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔آڈیٹر ایسا ہونا چاہئے جو تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد حسابات کا معائنہ کرتا رہے۔اگر ایسا ہو تو فوراً پتہ لگ جائے گا کہ کس جگہ غفلت سے کام لیا گیا ہے۔اگر افسر دستخط نہیں کرتا تو وہ پکڑا جائے گا اور اگر افسر دستخط کرتا ہے اور حسابات کا روزانہ معائنہ کرتا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی غلطی واقعہ ہو۔اگر افسروں کی طرف سے حسابات کی باقاعدہ چیکنگ ہو، حسابات کے رجسٹرات پر اُن کے دستخط ہوں تو کوئی خرابی پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔اب جو چار چار، پانچ پانچ ، سات سات سال کے بعد