خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 132

خطابات شوری جلد سوم ۱۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء بہت کچھ خرچ ہوتا ہے۔ان کی سیاہی کا بھی اور کاغذ کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کیونکہ پرانی کتب کا کا غذ جلد کیڑے کا شکار ہو جاتا ہے۔پس سات آنہ میں ایک چھپی ہوئی کتاب خرید کر لائبریری میں رکھ لی جائے تو اس کی حفاظت کا اتنا فکر نہیں ہو گا جتنا کہ ایک قلمی کتاب کا خواہ وہ کتنی قیمت پر آئی ہو۔غرض لائبریری کے متعلق بہت سے سوالات ہیں جو غور کے قابل ہیں۔میرے نزدیک جہاں تک تبلیغ کا سوال ہے لائبریری کی ساری کتب مفید نہیں ہیں اور نہ سلسلہ کو ان سب کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر بہر حال اس بارہ میں صدر انجمن احمد یہ نے جو کچھ فیصلہ کرنا ہے حضرت خلیفہ اول کے ورثاء سے ہی کرنا ہے کہ ہمارے پاس یہ کتا بیں کس رنگ میں ہیں۔اس کے بعد اگر ضرورت ہوگی تو سلسلہ جن کتابوں کا خرید ناتبلیغی نقطۂ نگاہ سے ضروری سمجھے گا خرید لے گا اور جن کتابوں کے متعلق سلسلہ سمجھے گا کہ یہ چھپ چکی ہیں ، ہمیں قلمی نسخوں کی ضرورت نہیں ہے۔اُن کے متعلق وہ حضرت خلیفہ اول کے ورثاء سے کہہ سکتا ہے کہ آپ ان کتابوں کو اپنے پاس رکھ لیں یا جی چاہے تو فروخت کر دیں ، سلسلہ ان کی حفاظت کا خرچ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔حضرت خلیفہ اول کی لائبریری میں بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو قلمی ہیں اور جن کی خاص طور پر حفاظت کرنی پڑتی ہے بلکہ مجھے پتہ لگا ہے کہ بعض قیمتی کتابیں ضائع بھی ہو گئی ہیں مگر پھر بھی اُن کتابوں میں سے بہت سی کتابیں اب چھپ چکی ہیں اور آسانی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔بہت سی کتابیں جو حضرت خلیفہ اول کی لائبریری میں ہیں ، میری لائبریری میں بھی موجود ہیں اور بہت سی کتابیں جو بعد میں چھپی ہیں ، میری لائبریری میں تو ہیں مگر حضرت خلیفہ اول کی لائبریری میں نہیں ہیں۔پس انجمن اگر چاہے تو وہ بہت تھوڑے سے روپیہ پر اپنی تبلیغی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے اور ان کتابوں کو منگوا سکتی ہے جن کی عام طور پر ضرورت پیش آتی رہتی ہے لیکن انجمن والے ایک ڈبدھا کی حالت میں لٹکے چلے جاتے ہیں۔نہ وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لائبریری اُن کی ہے یا حضرت خلیفہ اوّل کے ورثاء کی ہے اور نہ وہ لائبریری کے لئے روپیہ خرچ کرتے ہیں انجمن والے سمجھتے ہیں کہ جب یہ لائبریری حضرت خلیفہ اول کے خاندان کی ملکیت ہے تو ہم اس پر بلا وجہ کیوں روپیہ خرچ کریں اور حضرت خلیفہ اول کے ورثاء یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی کتابیں انجمن والوں کو