خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 131
خطابات شوری جلد سوم ۱۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء ہوتی ہے مگر جہاں تک سلسلہ کی ضروریات کا تعلق ہے اُن کے لحاظ سے یا مطالعہ کے لحاظ سے انہیں کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔مثلاً بخاری اڑھائی روپے میں عام مل جاتی ہے اب جہاں تک دین کی اشاعت کے لئے بخاری کی ضرورت کا سوال ہے، اڑھائی روپے کی بخاری اتنا ہی کام دے جائے گی جتنا کام ایک پرانی قلمی بخاری جو پانچ سو سال کی لکھی ہوئی ہو دے سکتی ہے بلکہ پانچ سو سال کی پرانی قلمی بخاری کے خریدنے پر جتنا روپیہ صرف ہو سکتا ہے اتنے روپیہ سے شائع شدہ بخاری کی دس جلد میں خریدی جاسکتی ہیں۔افراد بے شک بعض دفعہ اپنے ذاتی شوق کی وجہ سے اس قسم کی کتابیں خرید لیتے ہیں مگر جہاں تک سلسلہ کی ضروریات کا سوال ہے وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ذاتی شوق کے لحاظ سے بعض لوگوں کو پرانے خطوط جمع کرنے کا شوق ہوتا ہے، بعض کو نیتریاں جمع کرنے کا شوق ہوتا ہے، بعض کو شوق ہوتا ہے کہ فلاں کتاب کا فلاں ایڈیشن مل جائے تو بڑی اچھی بات ہے، بعض کو پرانی قلمی کتابوں کے جمع کرنے کا شوق ہوتا ہے۔بے شک جہاں تک کسی شخص کے ذاتی شوق کا سوال ہے، ہم اس کو برداشت کر لیں گے مگر جہاں تک ضروریات سلسلہ کا تعلق ہے ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جائے گی کیونکہ ہم نے تو دین کی اشاعت کے لئے ضروری کتابوں پر اپنا روپیہ خرچ کرنا ہے۔ہمیں یہ ضرورت نہیں کہ وہ پانچ سو سال کی لکھی ہوئی ہو یا سات سو سال کی۔ہمیں تو صرف حوالہ کے لئے اس کی ضرورت ہے اور حوالہ کے لئے قلمی نسخہ اتنا مفید نہیں ہوسکتا جتنا مطبع میں شائع شدہ نسخہ۔قلمی نسخہ کے متعلق تو پھر یہ بحث آ جائے گی کہ یہ نسخہ صحیح بھی ہے یا نہیں لیکن مطبوعہ نسخہ کے متعلق اس قسم کی کوئی بحث نہیں اُٹھ سکتی اس لئے قلمی نسخوں کی بجائے مطبوعہ نسخہ جات تبلیغی نقطۂ نگاہ سے زیادہ مفید ہوتے ہیں اور وہ قلمی نسخوں سے بہت کم قیمت پر مل جاتے ہیں حضرت خلیفہ اول کی لائبریری میں ایسی کئی کتابیں موجود ہیں کیونکہ آپ کو پرانی قلمی کتا بیں جمع کرنے کا شوق تھا۔ایسی کتابوں پر صرف خرچ ہی خرچ ہوتا ہے کیونکہ اُن کی خاص طور پر حفاظت کرنی پڑتی ہے لیکن جماعت کی ضروریات کے لحاظ سے وہ زیادہ مفید نہیں ہوتیں۔مثلاً حضرت خلیفہ اول نے محلی ابن حزم کا رام پور سے قلمی نسخہ منگوایا تھا مگر اب یہ کتاب چھپ چکی ہے اور میرے پاس موجود ہے۔ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابوں کی حفاظت پر بھی