خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 133

خطابات شوری جلد سوم ۱۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء فائدہ کے لئے دی ہوئی ہیں مگر وہ اپنی غفلت سے اُن کو ضائع کر رہے ہیں۔اس طرح دونوں طرف ایسا احساس پیدا ہو رہا ہے جو صحیح اور اچھے تعلقات کے لئے مضر ہے۔وہ اِن پر احسان سمجھتے ہیں اور یہ اُن پر احسان سمجھتے ہیں اور برابرتمیں سال سے ایسا ہو رہا ہے۔میرے نزدیک انجمن کو حضرت خلیفہ اول کے ورثاء سے گفتگو کر کے فیصلہ کرنا چاہئے کہ لائبریری کی کتابیں اُس کے پاس کس حیثیت سے ہیں۔آیا انجمن صرف بطور محافظ کے ہے یا لائبریری کی کتابیں اُس کے پاس اُس کی ملکیت میں شامل ہیں؟ اس فیصلہ کے بعد انجمن والے صحیح طریق کار اختیار کر سکتے ہیں اور در حقیقت اس فیصلہ کے بعد ہی لائبریری کی صحیح معنوں میں داغ بیل پڑے گی۔اگر انجمن والے یہ فیصلہ کر لیں تو اس کے بعد کوئی نہ کوئی رُخ ایسا ضرور نکل آئے گا جس سے نتائج پہلے سے زیادہ شاندار پیدا ہوں گے۔دوسرا سوال حفاظت کا کیا گیا ہے۔مجھے حفاظت کے محکمہ کو دیکھ کر ہمیشہ حضرت خلیفہ اوّل کا ایک لطیفہ یاد آیا کرتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جموں میں ایک بڑا رئیس تھا جس نے پندرہ بیس ہزار روپیہ خرچ کر کے ولایت سے ایک ترکی گھوڑا منگوایا اور سائیس کو تاکید کر دی کہ اس کا خیال رکھنا۔اُس وقت جموں میں تنخواہیں بہت کم ہوا کرتی تھیں۔سائیس کی تنخواہ صرف پانچ چھ روپے ہوا کرتی تھی اور گو وہ سستا سماں تھا مگر پھر بھی پانچ چھ روپے میں مشکل سے گزارہ ہوا کرتا تھا۔کچھ دنوں کے بعد رئیس نے دیکھا کہ گھوڑا دبلا ہونا شروع ہو گیا ہے۔یہ دیکھ کر اسے سخت فکر ہوا اور اُس نے سمجھا یہ نالائق آدمی ہے گھوڑے کی نگرانی صحیح طور پر نہیں کرتا۔چنانچہ اس نے پہلے سائیں کے اوپر ایک اور نگران مقرر کر دیا۔اس پر گھوڑا اور زیادہ دبلا ہونے لگ گیا۔رئیس نے یہ دیکھ کر دوسرا نگران مقرر کر دیا مگر وہ موٹا ہونے کی بجائے پہلے سے بھی دُبلا ہو گیا۔آخر اس نے سب پر ایک اور نگران مقرر کر دیا مگر گھوڑا موٹا نہ ہوا۔یہ دیکھ کر اُس نے حضرت خلیفہ اول کے پاس شکایت کی کہ میں نے اتنا قیمتی گھوڑا منگوایا تھا اور چار آدمی بھی مقرر کئے مگر گھوڑا ہے کہ دُبلا ہی ہوتا جا رہا ہے ،معلوم نہیں کیا وجہ ہے؟ حضرت خلیفہ اول نے بڑے نگران کو بلایا اور کہا کہ بتاؤ گھوڑا کیوں دُبلا ہو رہا ہے؟ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ گھوڑے کے لئے پانچ سیر دانہ مقرر ہے اور چونکہ ہماری تنخواہ بہت تھوڑی ہے۔اس لئے پہلے سائیس کو جب پانچ سیر دانہ گھوڑے کے لئے دیا جاتا تو وہ