خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 130

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء رہتا ہے کہ ہم اس لائبریری کے اخراجات کیوں برداشت کریں۔انجمن صرف ایسے ہی اخراجات برداشت کرتی ہے جن سے عارضی طور پر کام چلایا جا سکے۔ایسے اخراجات جو کسی ملکیتی جائیداد کے متعلق ضروری ہوتے ہیں، انجمن ان کو برداشت نہیں کرتی۔کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ لائبریری انجمن کی ملکیت تو نہیں کہ اس کے اخراجات برداشت کئے جائیں۔میرے نزدیک لائبریری کے متعلق بہت سے سوالات ہیں جن کا حل ہونا ضروری ہے اور جن کے متعلق صدر انجمن احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ جلد سے جلد ان امور کا فیصلہ کرے۔مثلاً اول اس بات کو خواہ نہ بھی طے کیا جائے کہ یہ لائبریری صدرانجمن احمدیہ کی ہے یا حضرت خلیفہ اول کے ورثاء کی ہے، سوال ہے کہ بعض کتابیں ایسی ہیں جن کے صرف ایک یا دو ایڈیشن نکلتے ہیں اور پھر اُس کتاب کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس قسم کی کتابیں لائبریری میں موجود ہیں اور انجمن اُن کے کسی تازہ ایڈیشن کے خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔اگر یہ لائبریری حضرت خلیفہ اول کے خاندان کی ہے اور درحقیقت جیسا کہ ہم بھی سمجھتے ہیں یہ حضرت خلیفہ اول کے خاندان کی ہی ملکیت ہے تو جس وقت اُنہوں نے یہ کتابیں واپس لے لیں ، انجمن کے لئے نئی کتابوں کا خرید نا سخت مشکل ہو جائے گا۔نہ صرف اس لحاظ سے کہ ممکن ہے کہ اُس وقت تک ان کتابوں کا ایڈیشن ختم ہو چکا ہو بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ہوسکتا ہے جو کتاب آج پانچ روپے کومل جاتی ہو وہ اس کے نایاب ہو جانے کی صورت میں پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ بلکہ سو سو روپے کو ملے۔اب تو صدر انجمن احمد یہ خاموشی سے بیٹھی ہے اور سمجھتی ہے کہ کتابیں لائبریری میں موجود ہیں اور کتابوں کے خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن جب یہ کتابیں اپنی ملکیت کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول کا خاندان لے لے گا تو اُس وقت صدر انجمن احمد یہ مجبور ہوگی کہ یا تو حضرت خلیفہ اول کے ورثاء سے اور یا پھر کسی اور جگہ سے وہ کتا بیں نہایت گراں قیمت پر خریدے اور اس طرح اپنی ضرورت کو پورا کرے۔آج اگر وہ صفائی سے اس امر کا تصفیہ کر لیں تو کم سے کم اتنا فائدہ انجمن والوں کوضرور ہو جائے گا کہ جو کتابیں اُن کے نزدیک تبلیغی نقطہ نگاہ سے ضروری ہوں گی پیشتر اس کے کہ اُن کی طباعت ختم ہو یا گراں قیمت پر خریدنی پڑیں وہ آج ہی اُن کو خرید لے گی۔دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض کتب کی نوادر ہونے کے لحاظ سے تو بے شک بڑی اہمیت