خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 129

خطابات شوری جلد سوم ۱۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء اور چونکہ سب کمیٹی میں آئندہ تمام نظارتوں کے نمائندے بھی شامل ہونگے اس لئے ہر نظارت کی رائے سب کمیٹی پر کلی طور پر واضح ہو جائے گی۔بہر حال سب کمیٹی بیت المال اخراجات کو بڑھانے یا بجٹ میں تبدیلی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔اور چونکہ آئندہ ایک خاصی تعداد انجمن کے نمائندوں کی اس سب کمیٹی میں شامل ہوگی مختلف نظارتوں کا نقطہ نگاہ اس پر آسانی سے واضح ہو سکے گا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر سب کمیٹی خود بعض اخراجات نہ بڑھانا چاہے تو مجلس شوریٰ میں ان معاملات کو پیش کر کے لوگوں کی رائے طلب کر لے۔بہر حال ایسے امور سب کمیٹی میں ہی طے ہو سکتے ہیں۔یہاں اگر بعض اخراجات میں زیادتی کی رائے پیش کی جائے تو اس پر پوری طرح غور نہیں ہوسکتا۔کمی کے متعلق کسی خاص غور وفکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔پرانے اخراجات کے متعلق انسان کو تجربہ ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کو کس حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔مگر نئے اخراجات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان پر پورا غور کر لیا جائے۔اس لئے میں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہاں کسی خرچ میں اضافہ کرنے کے متعلق بحث کی جائے۔اس قسم کی تجاویز کا دروازہ کھولنے سے راستہ بہت لمبا ہو جاتا ہے مگر چونکہ یہ پہلو ایسا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔آئندہ کے متعلق سب کمیٹی کو میں نے اختیار دے دیا ہے اگر وہ کسی خرچ میں زیادتی مناسب سمجھے گی تو کر دے گی۔دوستوں کو بھی یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ان کے نزدیک آئندہ کسی خرچ میں زیادتی ضروری ہو تو وہ اس معاملہ کو سب کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا کریں۔سب کمیٹی میں نظارتوں کے کافی نمائندے ہوں گے اور وہ اس پر پوری طرح غور کر کے مناسب رائے قائم کر سکیں گے۔لائبریری کے متعلق تجاویز پر تبصرہ اس وقت جو تجاویز پیش کی گئی ہیں ان میں لائبریری کئی طور پر زیر بحث آگئی ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں انجمن کے ذہن پر جو چیز حاوی رہی ہے اور جس کا مجھے صدر انجمن احمدیہ کے ممبران کے گفتگوؤں سے پتہ چلتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ صدرانجمن احمد یہ اس لائبریری کو اپنی لائبریری نہیں سمجھتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لائبریری میں اسی فیصدی کتابیں حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی ہیں اور انجمن ان کتابوں کی محض نگرانی کر رہی ہے۔اُس کے پاس کوئی ایسی سند نہیں ہے جس سے وہ لائبریری کو اپنی ملکیت قرار دے سکے۔اس وجہ سے ان کی طبیعت پر ہمیشہ یہ اثر